جس کو پاسِ وفا رہا ہی نہیں
ہم کو اس سے کوئی گِلہ ہی نہیں
عقل رہتی ہے ضابطوں کی اسیر
عشق کا کوئی ضابطہ ہی نہیں
عشق کی رہگزر پہ نکلے ہیں
جس میں اپنا اتا پتا ہی نہیں
ہجر کا ریگزار چاروں طرف
ہم کہاں جائیں؟ راستہ ہی نہیں
تیرے در کا اسیر جب سے ہوا
اب کسی سے معاملہ ہی نہیں
اس لیے تلخ میرا لہجہ ہے
جھوٹ کا کوئی شائبہ ہی نہیں
وہ مِرے اس قدر قریب ہوئے
فاصلہ درمیاں رہا ہی نہیں
سر جھُکا صرف سامنے تیرے
اب کوئی اور راستہ ہی نہیں
جانتا ہے مِرے دُکھوں کو مگر
چاند کھڑکی سے جھانکتا ہی نہیں
سہیل رائے
No comments:
Post a Comment