Thursday, 1 April 2021

دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں

 دل کی بے اختیاریاں نہ گئیں

نہ گئیں آہ و زاریاں نہ گئیں

دن کو چھوٹا نہ انتظار ان کا

شب کو اختر شماریاں نہ گئیں

نہ چھپا گریۂ شب فرقت

رخ سے اشکوں کی دھاریاں نہ گئیں

آ گئے وہ بھی وعدے پر لیکن

آہ کی شعلہ باریاں نہ گئیں

تنگ آ کر وہ چل دئیے گھر کو

جب مِری اشک باریاں نہ گئیں

اس نے خط پھاڑ کر کہا یہ رشید

تیری مضموں نگاریاں نہ گئیں


رشید رامپوری

No comments:

Post a Comment