Showing posts with label عباس رضوی. Show all posts
Showing posts with label عباس رضوی. Show all posts

Monday, 15 July 2024

یہی نہیں کہ فقط کربلا حسین سے ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یہی نہیں کہ فقط کربلا حسینؑ سے ہے

حسینؑ سے ہیں محمدؐ، خدا حسینؑ سے ہے

کسی نے پوچھ لیا کس کے دم سے ہے اسلام

قضا و قدر نے جھک کر کہا حسینؑ سے ہے

ہزار چشمۂ آبِ رواں ہیں دنیا میں

مگر یہ پیاس کا دریا بہا حسینؑ سے ہے

Monday, 25 April 2022

دھواں سا پھیل گیا دل میں شام ڈھلتے ہی

 دھواں سا پھیل گیا دل میں شام ڈھلتے ہی

بدل گئے مِرے موسم،۔ تِرے بدلتے ہی

سمٹتے پھیلتے سائے کلام کرنے لگے

لہو میں خوف کا پہلا چراغ جلتے ہی

کوئی ملول سی خوشبو فضا میں تیر گئی

کسی خیال کے حرف و صدا میں ڈھلتے ہی

Saturday, 11 September 2021

نہ جانے کب سے یونہی مرکز نظر ہے مرا

 نہ جانے کب سے یونہی مرکزِ نظر ہے مِرا

یہ زندگی کا معمہ کہ دردِ سر ہے مرا

رواں دواں ہے بصد شوق اُس کے گھر کی طرف

یہ ابر پارہ نہیں مرغِ نامہ بر ہے مِرا

یہ آب و گِل بھی مِرے قافلے میں شامل ہیں

کہ دشت ہی نہیں دریا بھی ہمسفر ہے مرا

Saturday, 15 May 2021

تعبیر کو ترسے ہوئے خوابوں کی زباں ہیں

 تعبیر کو ترسے ہوئے خوابوں کی زباں ہیں

تصویر کے ہونٹوں پہ جو بوسوں کے نشاں ہیں

آنکھوں میں تر و تازہ ہیں جس عہد کے منظر

ہم لوگ اسی عہدِ گزشتہ میں جواں ہیں

نیلام ہمارا بھی اسی شرط پہ ہو گا

ہم رونقِ بازار ہیں جیسے ہیں، جہاں ہیں

Monday, 1 March 2021

ہم ترے حسن جہاں تاب سے ڈر جاتے ہیں

 ہم تِرے حسنِ جہاں تاب سے ڈر جاتے ہیں

ایسے مفلس ہیں کہ اسباب سے ڈر جاتے ہیں

خوف ایسا ہے کہ دنیا کے ستائے ہوئے لوگ

کبھی منبر کبھی محراب سے ڈر جاتے ہیں

رات کے پچھلے پہر نیند میں چلتے ہوئے لوگ

خون ہوتے ہوئے مہتاب سے ڈر جاتے ہیں

Wednesday, 24 February 2021

ہر طرف شور فغاں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

 ہر طرف شورِ فغاں ہے کوئی سُنتا ہی نہیں

قافلہ ہے کہ رواں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

اک صدا پوچھتی رہتی ہے؛ کوئی زندہ ہے

میں کہے جاتا ہوں؛ ہاں ہے کوئی سنتا ہی نہیں

میں جو چپ تھا، ہمہ تن گوش تھی بستی ساری

اب مِرے منہ میں زباں ہے، کوئی سنتا ہی نہیں

Sunday, 14 February 2021

ستارے چاہتے ہیں ماہتاب مانگتے ہیں

 ستارے چاہتے ہیں، ماہتاب مانگتے ہیں

مِرے دریچے نئی آب و تاب مانگتے ہیں

وہ خوش خرام جب اس راہ سے گزرتا ہے

تو سنگ و خشت بھی اذنِ خطاب مانگتے ہیں

کوئی ہوا سے یہ کہہ دے؛ ذرا ٹھہر جائے

کہ رقص کرنے کی مہلت حباب مانگتے ہیں

Saturday, 21 November 2020

میں اس سے دور رہا اس کی دسترس میں رہا

 میں اس سے دور رہا اس کی دسترس میں رہا

وہ ایک شعلے کی صورت مرے نفس میں رہا

نظر اسیر اسی چشمِ مے فشاں کی رہی

مرا بدن بھی مری روح کے قفس میں رہا

چمن سے ٹوٹ گیا برگِ زرد کا رشتہ

نہ آب و گل میں سمایا نہ خار و خس میں رہا

Friday, 20 November 2020

گزر گیا وہ زمانہ وہ زخم بھر بھی گئے

 گزر گیا وہ زمانہ وہ زخم بھر بھی گئے

سفر تمام ہوا، اور ہمسفر بھی گئے

اسی نظر کے لیے بے قرار رہتے تھے

اسی نگاہ کی بے تابیوں سے ڈر بھی گئے

ہماری راہ میں سایہ کہیں نہیں تھا مگر

کسی شجر نے پکارا تو ہم ٹھہر بھی گئے

Thursday, 19 November 2020

اہل جنوں تھے فصل بہاراں کے سر گئے

 اہلِ جنوں تھے فصلِ بہاراں کے سر گئے

ہم لوگ خواہشوں کی حرارت سے مر گئے

ہجر و وصال ایک ہی لمحے کی بات تھی

وہ پل گزر گیا تو زمانے گزر گئے

اے تیرگئ شہر تمنا بتا بھی دے

وہ چاند کیا ہوئے وہ ستارے کدھر گئے