عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہی نہیں کہ فقط کربلا حسینؑ سے ہے
حسینؑ سے ہیں محمدؐ، خدا حسینؑ سے ہے
کسی نے پوچھ لیا کس کے دم سے ہے اسلام
قضا و قدر نے جھک کر کہا حسینؑ سے ہے
ہزار چشمۂ آبِ رواں ہیں دنیا میں
مگر یہ پیاس کا دریا بہا حسینؑ سے ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یہی نہیں کہ فقط کربلا حسینؑ سے ہے
حسینؑ سے ہیں محمدؐ، خدا حسینؑ سے ہے
کسی نے پوچھ لیا کس کے دم سے ہے اسلام
قضا و قدر نے جھک کر کہا حسینؑ سے ہے
ہزار چشمۂ آبِ رواں ہیں دنیا میں
مگر یہ پیاس کا دریا بہا حسینؑ سے ہے
دھواں سا پھیل گیا دل میں شام ڈھلتے ہی
بدل گئے مِرے موسم،۔ تِرے بدلتے ہی
سمٹتے پھیلتے سائے کلام کرنے لگے
لہو میں خوف کا پہلا چراغ جلتے ہی
کوئی ملول سی خوشبو فضا میں تیر گئی
کسی خیال کے حرف و صدا میں ڈھلتے ہی
نہ جانے کب سے یونہی مرکزِ نظر ہے مِرا
یہ زندگی کا معمہ کہ دردِ سر ہے مرا
رواں دواں ہے بصد شوق اُس کے گھر کی طرف
یہ ابر پارہ نہیں مرغِ نامہ بر ہے مِرا
یہ آب و گِل بھی مِرے قافلے میں شامل ہیں
کہ دشت ہی نہیں دریا بھی ہمسفر ہے مرا
تعبیر کو ترسے ہوئے خوابوں کی زباں ہیں
تصویر کے ہونٹوں پہ جو بوسوں کے نشاں ہیں
آنکھوں میں تر و تازہ ہیں جس عہد کے منظر
ہم لوگ اسی عہدِ گزشتہ میں جواں ہیں
نیلام ہمارا بھی اسی شرط پہ ہو گا
ہم رونقِ بازار ہیں جیسے ہیں، جہاں ہیں
ہم تِرے حسنِ جہاں تاب سے ڈر جاتے ہیں
ایسے مفلس ہیں کہ اسباب سے ڈر جاتے ہیں
خوف ایسا ہے کہ دنیا کے ستائے ہوئے لوگ
کبھی منبر کبھی محراب سے ڈر جاتے ہیں
رات کے پچھلے پہر نیند میں چلتے ہوئے لوگ
خون ہوتے ہوئے مہتاب سے ڈر جاتے ہیں
ہر طرف شورِ فغاں ہے کوئی سُنتا ہی نہیں
قافلہ ہے کہ رواں ہے کوئی سنتا ہی نہیں
اک صدا پوچھتی رہتی ہے؛ کوئی زندہ ہے
میں کہے جاتا ہوں؛ ہاں ہے کوئی سنتا ہی نہیں
میں جو چپ تھا، ہمہ تن گوش تھی بستی ساری
اب مِرے منہ میں زباں ہے، کوئی سنتا ہی نہیں
ستارے چاہتے ہیں، ماہتاب مانگتے ہیں
مِرے دریچے نئی آب و تاب مانگتے ہیں
وہ خوش خرام جب اس راہ سے گزرتا ہے
تو سنگ و خشت بھی اذنِ خطاب مانگتے ہیں
کوئی ہوا سے یہ کہہ دے؛ ذرا ٹھہر جائے
کہ رقص کرنے کی مہلت حباب مانگتے ہیں
میں اس سے دور رہا اس کی دسترس میں رہا
وہ ایک شعلے کی صورت مرے نفس میں رہا
نظر اسیر اسی چشمِ مے فشاں کی رہی
مرا بدن بھی مری روح کے قفس میں رہا
چمن سے ٹوٹ گیا برگِ زرد کا رشتہ
نہ آب و گل میں سمایا نہ خار و خس میں رہا
گزر گیا وہ زمانہ وہ زخم بھر بھی گئے
سفر تمام ہوا، اور ہمسفر بھی گئے
اسی نظر کے لیے بے قرار رہتے تھے
اسی نگاہ کی بے تابیوں سے ڈر بھی گئے
ہماری راہ میں سایہ کہیں نہیں تھا مگر
کسی شجر نے پکارا تو ہم ٹھہر بھی گئے
اہلِ جنوں تھے فصلِ بہاراں کے سر گئے
ہم لوگ خواہشوں کی حرارت سے مر گئے
ہجر و وصال ایک ہی لمحے کی بات تھی
وہ پل گزر گیا تو زمانے گزر گئے
اے تیرگئ شہر تمنا بتا بھی دے
وہ چاند کیا ہوئے وہ ستارے کدھر گئے