Friday, 20 November 2020

گزر گیا وہ زمانہ وہ زخم بھر بھی گئے

 گزر گیا وہ زمانہ وہ زخم بھر بھی گئے

سفر تمام ہوا، اور ہمسفر بھی گئے

اسی نظر کے لیے بے قرار رہتے تھے

اسی نگاہ کی بے تابیوں سے ڈر بھی گئے

ہماری راہ میں سایہ کہیں نہیں تھا مگر

کسی شجر نے پکارا تو ہم ٹھہر بھی گئے

یہ سیل اشک ہے برباد کر کے چھوڑے گا

یہ گھر نہ پاؤ گے دریا اگر اتر بھی گئے

سحر ہوئی تو یہ عقدہ بھی طائروں پہ کھلا

کہ آشیاں ہی نہیں اب کے بال و پر بھی گئے

بہت عزیز تھی یہ زندگی مگر ہم لوگ

کبھی کبھی تو کسی آرزو میں مر بھی گئے

شجر کے ساتھ کوئی برگ زرد بھی نہ رہا

ہوا چلی تو بہاروں کے نوحہ گر بھی گئے


عباس رضوی

No comments:

Post a Comment