Friday, 20 November 2020

شجر جس پہ میں رہتا ہوں اسے کاٹا نہیں کرتا

 شجر جس پہ میں رہتا ہوں اسے کاٹا نہیں کرتا

میں آتش ملک سے سپنے میں بھی دھوکا نہیں کرتا

بناتے کیسے ہیں مٹی سے سونا، مجھ کو آتا ہے

مگر میں دوستو! ایسا کوئی دعویٰ نہیں کرتا

بھلا دیتے ہیں لوگ اکثر محبت میں کئے وعدے

تبھی تو جان میں تم سے کوئی وعدہ نہیں کرتا

میں اک بوڑھا شجر جس کو جواں رکھا پرندوں نے

تبھی تو میں پرندوں سے کوئی شکوہ نہیں کرتا

اڑانیں دیکھنی ہیں گر تو میری شاعری دیکھو

پرندہ ہوں میں پر ایسا کبھی دعویٰ نہیں کرتا


آتش اندوری

No comments:

Post a Comment