Friday, 20 November 2020

سینے میں الجھنوں کا جوبن کمال است

 سینے میں الجھنوں کا جوبن کمال است

آہا یہ زندگی سے ان بن کمال است

وہ اک بشر جو خود کو سمجھتا ہے ماورأ

وہ ہی بنے گا آگ کا ایندھن کمال است

ٹوٹے ہوئے بدن میں وحشت کی سسکیاں

اور پھر دلِ خراب کی چھن چھن کمال است

تصویرِ حسنِ یار سے مرغوب ہو کے پھر

کمرے میں منہ چڑاتا درپن کمال است

لفظوں سے اس نے میری چوٹوں کو یوں چھوا

ہر زخم لگ رہا ہے کندن کمال است

اے زویا تُو بھی عشق کی باتوں میں آ گئی

تُو نے بھی چن لیا اک رہزن، کمال است


زویا شیخ

No comments:

Post a Comment