سینے میں الجھنوں کا جوبن کمال است
آہا یہ زندگی سے ان بن کمال است
وہ اک بشر جو خود کو سمجھتا ہے ماورأ
وہ ہی بنے گا آگ کا ایندھن کمال است
ٹوٹے ہوئے بدن میں وحشت کی سسکیاں
اور پھر دلِ خراب کی چھن چھن کمال است
تصویرِ حسنِ یار سے مرغوب ہو کے پھر
کمرے میں منہ چڑاتا درپن کمال است
لفظوں سے اس نے میری چوٹوں کو یوں چھوا
ہر زخم لگ رہا ہے کندن کمال است
اے زویا تُو بھی عشق کی باتوں میں آ گئی
تُو نے بھی چن لیا اک رہزن، کمال است
زویا شیخ
No comments:
Post a Comment