رند منسوب بہر کیف رہا جام کے ساتھ
ذکر آ جاتا ہے اپنا بھی ترے نام کے ساتھ
دل نے احساس تباہی کو پنپنے نہ دیا
جام گردش میں رہا گردش ایام کے ساتھ
زندگی کو کبھی ترتیب میسر نہ ہوئی
رخ بدلتے رہے حالات ہر اک گام کے ساتھ
رند منسوب بہر کیف رہا جام کے ساتھ
ذکر آ جاتا ہے اپنا بھی ترے نام کے ساتھ
دل نے احساس تباہی کو پنپنے نہ دیا
جام گردش میں رہا گردش ایام کے ساتھ
زندگی کو کبھی ترتیب میسر نہ ہوئی
رخ بدلتے رہے حالات ہر اک گام کے ساتھ
آپ کی شوخئ انکار نئی بات نہیں
یہ تو معمول ہے سرکار نئی بات نہیں
آپ کو خونِ تمنا پہ تعجب کیوں ہے
روز مر جاتے ہیں بیمار نئی بات نہیں
چوٹ پڑتی نہیں احساس پہ اب مدت سے
آپ کی تلخیٔ گفتار نئی بات نہیں
اب کیوں حریم ناز میں سرمستیاں نہیں
ہم وہ نہیں کہ آپ میں وہ شوخیاں نہیں
دل ہی نہیں جو سوز جنوں سے تپاں نہیں
کیا زندگی جو وقف غم جاوداں نہیں
ہر وقت اب تو جیب و گریباں ہیں چاک چاک
احساس اہتمام بہار و خزاں نہیں
دل نے فریب عشق میں کھائے کہاں کہاں
درماندگی میں اشک بہائے کہاں کہاں
سجدے کہاں کہاں نہ کئے راہ شوق میں
کعبے قدم قدم پہ بسائے کہاں کہاں
بزمِ بہار، کنجِ حرم، صحن مے کدہ
دیوانگی نے حشر اٹھائے کہاں کہاں
لٹ جائے گی حیات نہ تھی یہ خبر مجھے
رونا پڑے گا ہجر میں شام و سحر مجھے
اٹھتا ہوں بار بار کلیجے کو تھام کر
دل میں چبھو رہا ہے کوئی نیشتر مجھے
دنیا میں آنسوؤں کی بسا کر چلی گئیں
اچھا دیا وفاؤں کا میری ثمر مجھے
بس اے جنونِ شوق بہت نام پا چکا
للہ، اور دہر میں رسوا نہ کر مجھے
جلوے سمیٹ کے دیدۂ حیراں میں رہ نہ جائیں
الطاف بے پناہ سے دیکھا نہ کر مجھے
عشق و جنوں میں زیست کو برباد کر چکا
کہتے ہیں لوگ مظہر آشفتہ سر مجھے
مظہر گیلانی