Showing posts with label مظہر گیلانی. Show all posts
Showing posts with label مظہر گیلانی. Show all posts

Wednesday, 16 March 2022

رند منسوب بہر کیف رہا جام کے ساتھ

 رند منسوب بہر کیف رہا جام کے ساتھ

ذکر آ جاتا ہے اپنا بھی ترے نام کے ساتھ

دل نے احساس تباہی کو پنپنے نہ دیا

جام گردش میں رہا گردش ایام کے ساتھ

زندگی کو کبھی ترتیب میسر نہ ہوئی

رخ بدلتے رہے حالات ہر اک گام کے ساتھ

Saturday, 19 February 2022

آپ کی شوخئ انکار نئی بات نہیں

 آپ کی شوخئ انکار نئی بات نہیں

یہ تو معمول ہے سرکار نئی بات نہیں

آپ کو خونِ تمنا پہ تعجب کیوں ہے

روز مر جاتے ہیں بیمار نئی بات نہیں

چوٹ پڑتی نہیں احساس پہ اب مدت سے

آپ کی تلخیٔ گفتار نئی بات نہیں

Monday, 24 January 2022

اب کیوں حریم ناز میں سرمستیاں نہیں

 اب کیوں حریم ناز میں سرمستیاں نہیں

ہم وہ نہیں کہ آپ میں وہ شوخیاں نہیں

دل ہی نہیں جو سوز جنوں سے تپاں نہیں

کیا زندگی جو وقف غم جاوداں نہیں

ہر وقت اب تو جیب و گریباں ہیں چاک چاک

احساس اہتمام بہار و خزاں نہیں

Sunday, 23 January 2022

دل نے فریب عشق میں کھائے کہاں کہاں

 دل نے فریب عشق میں کھائے کہاں کہاں

درماندگی میں اشک بہائے کہاں کہاں

سجدے کہاں کہاں نہ کئے راہ شوق میں

کعبے قدم قدم پہ بسائے کہاں کہاں

بزمِ بہار، کنجِ حرم، صحن مے کدہ

دیوانگی نے حشر اٹھائے کہاں کہاں

Saturday, 22 January 2022

لٹ جائے گی حیات نہ تھی یہ خبر مجھے

 لٹ جائے گی حیات نہ تھی یہ خبر مجھے

رونا پڑے گا ہجر میں شام و سحر مجھے

اٹھتا ہوں بار بار کلیجے کو تھام کر

دل میں چبھو رہا ہے کوئی نیشتر مجھے

دنیا میں آنسوؤں کی بسا کر چلی گئیں

اچھا دیا وفاؤں کا میری ثمر مجھے

بس اے جنونِ شوق بہت نام پا چکا

للہ، اور دہر میں رسوا نہ کر مجھے

جلوے سمیٹ کے دیدۂ حیراں میں رہ نہ جائیں

الطاف بے پناہ سے دیکھا نہ کر مجھے

عشق و جنوں میں زیست کو برباد کر چکا

کہتے ہیں لوگ مظہر آشفتہ سر مجھے


مظہر گیلانی