Saturday, 19 February 2022

آپ کی شوخئ انکار نئی بات نہیں

 آپ کی شوخئ انکار نئی بات نہیں

یہ تو معمول ہے سرکار نئی بات نہیں

آپ کو خونِ تمنا پہ تعجب کیوں ہے

روز مر جاتے ہیں بیمار نئی بات نہیں

چوٹ پڑتی نہیں احساس پہ اب مدت سے

آپ کی تلخیٔ گفتار نئی بات نہیں

حسن اخلاص کے بدلے میں جنوں ملتا ہے

عام ہے شامتِ کردار نئی بات نہیں

پُرسشِ حال کے بعد ان کو تردد کیسا

کہہ چکے ہم تو کئی بار نئی بات نہیں


مظہر گیلانی

No comments:

Post a Comment