شام ہو،۔ شام پر بہار بھی ہو
کوئی ہو اور اس سے پیار بھی ہو
مسکرا کر وہی ملے جس کو
مسکرانے کا اختیار بھی ہو
آئے وہ جس کے جانے کا دکھ ہو
آئے وہ جس کا انتظار بھی ہو
ہم جسے جان و دل سے اب چاہیں
کچھ تو اس کا اب اعتبار بھی ہو
اب تِرا پیار مجھ سے کہتا ہے
اب ذرا خون میں فشار بھی ہو
احسان فارس
No comments:
Post a Comment