Saturday, 19 February 2022

سکندر کے سفر کی بات نکلے

 سکندر کے سفر کی بات نکلے

کفن میں سے ہوں خالی ہاتھ نکلے

وہ کل کی فیس بک وہ کیف و شعری

وہ دیکھو چاند سورج ساتھ نکلے

میں نکلوں چاندی اور سونا پہن کر

مگر، مٹی مِری اوقات نکلے

توقع لے کے وہ آیا تھا، لیکن

اسی جیسے میرے حالات نکلے

جہاں ارتھی اٹھائی جا رہی ہو

اسی کوچے سے کیوں بارات نکلے

ستاروں کا شرف کیا وہ تو پروین

ہماری ذات کے ذرات نکلے


پروین کیف

No comments:

Post a Comment