ہمہ تن گوش ہیں لیکن کہانی سے خوش نہیں
صریحاً لوگ میری میزبانی سے خوش نہیں
مجھے اب سُنتِ سجادؑ ہی کرنی ہے ادا
مِرے رخسار بھی ہر بار پانی سے خوش نہیں
اذانِ صُور کی عجلت ہے سب اہلِ قبر کو
رہینِ خاک کوئی خاک دانی سے خوش نہیں
انہیں اک موج نے یوں بے توکل ہے کر دیا
سفینہ ور ہوا کی مہربانی سے خوش نہیں
ہمیں عادت ہے گھنٹوں بیٹھ کر روتے رہنے کی
عدو کیا تو ہماری رائگانی سے خوش نہیں
تبھی تو عمر بچپن سے نکل نہ پائی کبھی
اسے معلوم ہے ساگر جوانی سے خوش نہیں
ساگر حضورپوری
No comments:
Post a Comment