Showing posts with label فریاد آزر. Show all posts
Showing posts with label فریاد آزر. Show all posts

Monday, 4 December 2023

وقت کا احترام کرنے لگے

 وقت کا احترام کرنے لگے

شیر سرکس میں کام کرنے لگے

جب سے شاہی چھنی ہے جنگل کی

نیند گیدڑ حرام کرنے لگے

آج کے بھیڑیوں کا کہنا ہے

میمنے قتل عام کرنے لگے

Friday, 2 April 2021

وقت کے ٹھکرائے کو گردانتا کوئی نہیں

 وقت کے ٹھکرائے کو گردانتا کوئی نہیں

جانتے ہیں سب مجھے، پہچانتا کوئی نہیں

آج بھی ہر خواب کی تعبیر ممکن ہے مگر

یہ سنہرا عزم دل میں ‌ٹھانتا کوئی نہیں

جب سے میں‌ نے گفتگو میں جھوٹ شامل کر لیا

میری باتوں کا بُرا اب مانتا کوئی نہیں

Sunday, 11 October 2015

نہ جانے آگ لگا کر کدھر گئے اپنے

نہ جانے آگ لگا کر کدھر گئے اپنے
لگے بجھانے کہ ہمسائے، ڈر گئے اپنے
میں اپنی لاش کو تنہا ہی دفن کر لوں گا
کہ تم بھی جاؤ، سبھی لوگ گھر گئے اپنے
یہ روزگار کی آندھی بھی خوب آندھی ہے
ذرا سی تیز ہوئی تھی، بکھر گئے اپنے

ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا

ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا
میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا
نہ جانے کون سی ادا بری لگی تھی روح کو
بدن کا پھر تمام کھیل کود ختم ہو گیا 
معائدے ضمیر سے تو کر لیے گئے مگر
مسرتوں کا دورۂ وفود ختم ہو گیا

کچھ اس طرح سے عبادت خفا ہوئی ہم سے

کچھ اس طرح سے عبادت خفا ہوئی ہم سے
نمازِ عشق بہت کم ادا ہوئی ہم سے
غریب آنکھوں میں آنسو بھی اب نہیں آتے
الٰہی رحم کہ پھر کیا خطا ہوئی ہم سے
ہم ابتدا ہی کہاں نیکیوں کی تھے یا رب
تو پھر گناہوں کی کیوں انتہا ہوئی ہم سے

دہر میں زندہ ابھی نمرود کا ہمزاد ہے

دہر میں زندہ ابھی نمرود کا ہمزاد ہے
امتحاں میں اب بھی ابراہیمؑ کی اولاد ہے
سب حقائق مجھ سے بھی پہلے کہیں موجود تھے
میں سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ مِری ایجاد ہے
آج بھی مرہونِ منت ہے سہاروں کا ادیب
کیا عجوبہ ہے کہ خالق سے بڑا نقاد ہے

لے رہا تھا مرا امتحان قسطوں میں

لے رہا تھا مِرا امتحان قسطوں میں
خبر نہ تھی کہ نکالے گا جان قسطوں میں
تمام عمر بھٹکتا رہا میں خانہ بدوش
خرید بھی نہ سکا اِک مکان قسطوں میں
تمام قرض ادا کر کے ساہُوکاروں کا
بچا ہی لوں گا بزرگوں کی آن قسطوں میں

اس نے کب کرب کے صحرا میں بسایا ہے مجھے

اس نے کب کرب کے صحرا میں بسایا ہے مجھے
دھوپ خود ساختہ دیوار کا سایہ ہے مجھے
پہلے مٹی کو ہواؤں کے کرم پر چھوڑا
اور پھر آگ کے دریا میں گِرایا ہے مجھے
کیوں مِری روح ہوئ جاتی ہے چھلنی چھلنی
کس لیے کربِ فلسطین بنایا ہے مجھے

پڑا تھا لکھنا مجھے خود ہی مرثیہ میرا

پڑا تھا لکھنا مجھے خود ہی مرثیہ میرا
کہ میرے بعد بھلا اور کون تھا میرا
عجیب طور کی مجھ کو سزا سنائ گئی
بدن کے نیزے پہ سر رکھ دیا گیا میرا
یہی کہ سانس بھی لینے نہ دے گی اب مجھ کو
زیادہ اور بگاڑے گی کیا ہوا میرا

Monday, 17 August 2015

اس سے نالاں تھے فرشتے وہ خفا کس سے تھا

اس سے نالاں تھے فرشتے وہ خفا کس سے تھا
اختلاف اس کا خداؤں کے سوا کس سے تھا
یوں تو محفوظ رہے ذہن میں لاکھوں الفاظ
یاد آیا نہیں، دروازہ کھلا کس سے تھا
میرے بارے میں بڑی رائے غلط تھی اس کی
جانے وہ میرے تصور میں مِلا کس سے تھا

اب اک عجیب سا نصاب مانگتی ہے زندگی

اب اک عجیب سا نصاب مانگتی ہے زندگی
خزاں رُتوں میں‌ بھی گلاب مانگتی ہے زندگی
حقیقتوں کا دشت چاہے جس قدر ہو مستند
کبھی کبھی حسیں‌ خواب مانگتی ہے زندگی
کچھ اس قدر شدید تشنگی ہے دل پہ حکمراں
کہ پھر کوئی نیا سراب مانگتی ہے زندگی

Friday, 31 October 2014

نگاہ تشنہ کو تسکین اضطراب تو دے

نگاہِ تشنہ کو تسکینِ اضطراب تو دے
وہ آب دے کہ نہ دے منظرِ سراب تو دے
مری نگاہوں سے اس کو نہ پھر گلہ ہو گا
وہ اپنے چہرے سے اچھی کوئی کتاب تو دے
جہاں کھلے ہوں مسرت کے پھول بھی دوچار
دلِ حزیں کو اب اُن موسموں کا باب تو دے

ادھر دعا کی سماعتوں کا روایتی آسمان بھی چپ

اُدھر دعا کی سماعتوں کا روایتی آسمان بھی چپ
اِدھر سسکتے ہوئے لبوں کا برہنہ طرزِ بیان بھی چپ
نہ جانے کن خواہشوں کی شدت کا شور کمرے میں گونجتا تھا
نہ جانے کیا کہہ گئی ہوا، ہو گیا وہ خالی مکان بھی چپ
نئی رُتوں نے ہوا کی رَو سے نہ جانے کیا ساز باز کر لی
کہ سبز صدیوں سے گونجتی آ رہی ندائے اذان بھی چپ

صدیوں کا بن باس لکھے گی اب کے برس بھی

صدیوں کا بن باس لکھے گی اب کے برس بھی
تنہائی اتہاس لکھے گی اب کے برس بھی
اب کے برس بھی جھوٹ ہمارا پیٹ بھرے گا
سچائی افلاس لکھے گی اب کے برس بھی
اب کے برس بھی دنیا چھینی جائے گی ہم سے
مجبوری سنیاس لکھے گی اب کے برس بھی

کلام کرتا تھا میں اس سے دعا کے لہجے میں

کلام کرتا تھا میں اُس سے دعا کے لہجے میں
مگر وہ بول پڑا تھا خدا کے لہجے میں
زمین پھر اسی مرکز پہ جلد آ جائے
ندائے ’’کُن‘‘  میں سنوں ابتدا کے لہجے میں
پرندے لوہے کے، کنکر بموں کے پھینکتے ہیں
عذاب ہم پہ ہے کیوں ابرہہ کے لہجے میں

ہوائے شہر یہاں کس طرح چلی بابا

ہوائے شہر یہاں کس طرح چلی بابا
کہ گانو جلنے لگا ہے گلی گلی بابا
درخت کیوں ہیں سراسیمگی کے عالم میں
مچی ہے کیسی پرندوں میں کھلبلی بابا
نہ جانے کیسا بچھایا تھا جال چوروں نے
کہ آج پھنس گیا سِم سِم میں خود علی بابا

سراغ بھی نہ ملے اجنبی صدا کے مجھے

سُراغ بھی نہ ملے اجنبی صدا کے مجھے
یہ کون چھپ گیا صحراؤں میں بُلا کے مجھے
میں اس کی باتوں میں غم اپنا بھُول جاتا، مگر
وہ شخص رونے لگا خود ہنسا ہنسا کے مجھے
اسے یقین کہ میں جان دے نہ پاؤں گا
مجھے یہ خوف کہ روئے گا آزما کے مجھے

سیاہ لفظوں بھری داستان کیا دے گا

سیاہ لفظوں بھری داستان کیا دے گا
مرے خلاف وہ مجھ سا بیان کیا دے گا
ہے طاری سینے میں تاریخی مسجدوں کا سکوت
یہاں پہ کوئی مسافر اذان کیا دے گا
مرے گناہوں پہ رحم آ ہی جائے گا اس کو
عذاب وہ مرے شایانِ شان کیا دے گا

وسعت صحرا کے آگے آسماں چھوٹا لگا

وسعتِ صحرا کے آگے آسماں چھوٹا لگا
دھوپ ایسی تھی کہ سر کو سائباں چھوٹا لگا
لوگ خوش فہمی کے پنجوں پر کھڑے تھے فطرتاً
اور یوں، قد میرا ان کے درمیاں چھوٹا لگا
یاس، محرومی، محبت، کرب، خوش فہمی، انا
اتنے ساماں تھے، مرا تنہا مکاں چھوٹا لگا