وقت کا احترام کرنے لگے
شیر سرکس میں کام کرنے لگے
جب سے شاہی چھنی ہے جنگل کی
نیند گیدڑ حرام کرنے لگے
آج کے بھیڑیوں کا کہنا ہے
میمنے قتل عام کرنے لگے
وقت کا احترام کرنے لگے
شیر سرکس میں کام کرنے لگے
جب سے شاہی چھنی ہے جنگل کی
نیند گیدڑ حرام کرنے لگے
آج کے بھیڑیوں کا کہنا ہے
میمنے قتل عام کرنے لگے
وقت کے ٹھکرائے کو گردانتا کوئی نہیں
جانتے ہیں سب مجھے، پہچانتا کوئی نہیں
آج بھی ہر خواب کی تعبیر ممکن ہے مگر
یہ سنہرا عزم دل میں ٹھانتا کوئی نہیں
جب سے میں نے گفتگو میں جھوٹ شامل کر لیا
میری باتوں کا بُرا اب مانتا کوئی نہیں