وقت کے ٹھکرائے کو گردانتا کوئی نہیں
جانتے ہیں سب مجھے، پہچانتا کوئی نہیں
آج بھی ہر خواب کی تعبیر ممکن ہے مگر
یہ سنہرا عزم دل میں ٹھانتا کوئی نہیں
جب سے میں نے گفتگو میں جھوٹ شامل کر لیا
میری باتوں کا بُرا اب مانتا کوئی نہیں
کچھ تو ہو گا حال سے ماضی میں ہجرت کا سبب
یونہی بس یادوں کی چادر تانتا کوئی نہیں
میں جو کچھ بھی کہا سچ کے سوا کچھ نہ کہا
پھر بھی آزر بات میری مانتا کوئی نہیں
فریاد آزر
No comments:
Post a Comment