فرض سپردگی میں تقاضے نہیں ہوئے
تیرے کہاں سے ہوں کہ ہم اپنے نہیں ہوئے
کچھ قرض اپنی ذات کے ہو بھی گئے وصول
جیسے تِرے سپرد تھے ویسے نہیں ہوئے
اچھا ہوا کہ ہم کو مرض لا دوا مِلا
اچھا نہیں ہوا کہ ہم اچھے نہیں ہوئے
فرض سپردگی میں تقاضے نہیں ہوئے
تیرے کہاں سے ہوں کہ ہم اپنے نہیں ہوئے
کچھ قرض اپنی ذات کے ہو بھی گئے وصول
جیسے تِرے سپرد تھے ویسے نہیں ہوئے
اچھا ہوا کہ ہم کو مرض لا دوا مِلا
اچھا نہیں ہوا کہ ہم اچھے نہیں ہوئے
اس نے آباد کیا شہرِ وفا دل کی طرح
آئی گرتے ہوئے اک گھر سے صدا دل کی طرح
خُون چُھپتا سا چلا جاتا ہے افلاک تا خاک
خارزاروں سے گُزرتی ہے صبا دل کی طرح
کس طرح گیند چلی جاتی ہے گھر سے باہر
کھلکھلاتے ہوئے بچوں نے کہا دل کی طرح
پرِند چھت پہ بلاتے ہیں بَین کرتے ہیں
مِری بیاض دِکھاتے ہیں بین کرتے ہیں
انہیں پتہ ہی نہیں بند کھڑکیوں کی سِِسک
یہ لوگ رو نہیں پاتے ہیں، بین کرتے ہیں
بہار دیکھنے جاتا ہوں باغ میں تو شجر
پرانے زخم گِناتے ہیں، بین کرتے ہیں
دلوں پہ درد کا امکان بھی زیادہ نہیں
وہ صبر ہے ابھی نقصان بھی زیادہ نہیں
وہ ایک ہاتھ بڑھائے گا تجھ کو پا لے گا
سو دیکھ صبر کا اعلان بھی زیادہ نہیں
ہمیں نے حشر اٹھا رکھا ہے بچھڑنے پر
وہ جانِ جاں تو پریشان بھی زیادہ نہیں
جلد آئیں جنہیں سینے سے لگانا ہے مجھے
پھر بدن اور کہیں کام میں لانا ہے مجھے
عشق پاؤں سے لپٹتا ہے تو رُک جاتا ہوں
ورنہ تم ہو تو تمہیں چھوڑ کے جانا ہے مجھے
میرے ہاتھوں کو خدا رکھے تِرے جسم کی خیر
مسئلہ یہ ہے تجھے ہاتھ لگانا ہے مجھے