Showing posts with label وپل کمار. Show all posts
Showing posts with label وپل کمار. Show all posts

Monday, 10 August 2026

فرض سپردگی میں تقاضے نہیں ہوئے

 فرض سپردگی میں تقاضے نہیں ہوئے

تیرے کہاں سے ہوں کہ ہم اپنے نہیں ہوئے

کچھ قرض اپنی ذات کے ہو بھی گئے وصول

جیسے تِرے سپرد تھے ویسے نہیں ہوئے

اچھا ہوا کہ ہم کو مرض لا دوا مِلا

اچھا نہیں ہوا کہ ہم اچھے نہیں ہوئے

Wednesday, 15 May 2024

اس نے آباد کیا شہر وفا دل کی طرح

 اس نے آباد کیا شہرِ وفا دل کی طرح 

آئی گرتے ہوئے اک گھر سے صدا دل کی طرح 

خُون چُھپتا سا چلا جاتا ہے افلاک تا خاک 

خارزاروں سے گُزرتی ہے صبا دل کی طرح 

کس طرح گیند چلی جاتی ہے گھر سے باہر 

کھلکھلاتے ہوئے بچوں نے کہا دل کی طرح 

Friday, 10 May 2024

پرند چھت پہ بلاتے ہیں بین کرتے ہیں

 پرِند چھت پہ بلاتے ہیں بَین کرتے ہیں 

مِری بیاض دِکھاتے ہیں بین کرتے ہیں 

انہیں پتہ ہی نہیں بند کھڑکیوں کی سِِسک 

یہ لوگ رو نہیں پاتے ہیں، بین کرتے ہیں 

بہار دیکھنے جاتا ہوں باغ میں تو شجر 

پرانے زخم گِناتے ہیں، بین کرتے ہیں 

Friday, 23 April 2021

دلوں پہ درد کا امکان بھی زیادہ نہیں

 دلوں پہ درد کا امکان بھی زیادہ نہیں

وہ صبر ہے ابھی نقصان بھی زیادہ نہیں

وہ ایک ہاتھ بڑھائے گا تجھ کو پا لے گا

سو دیکھ صبر کا اعلان بھی زیادہ نہیں

ہمیں نے حشر اٹھا رکھا ہے بچھڑنے پر

وہ جانِ جاں تو پریشان بھی زیادہ نہیں

Thursday, 22 April 2021

جلد آئیں جنہیں سینے سے لگانا ہے مجھے

 جلد آئیں جنہیں سینے سے لگانا ہے مجھے

پھر بدن اور کہیں کام میں لانا ہے مجھے

عشق پاؤں سے لپٹتا ہے تو رُک جاتا ہوں

ورنہ تم ہو تو تمہیں چھوڑ کے جانا ہے مجھے

میرے ہاتھوں کو خدا رکھے تِرے جسم کی خیر

مسئلہ یہ ہے تجھے ہاتھ لگانا ہے مجھے