Monday, 26 October 2026

بڑھو دریا کی جانب پھر ہے قتل عام لکھ دینا

 بڑھو دریا کی جانب پھر ہے قتل عام لکھ دینا

مِرے پیاسے قبیلے کو مِرا پیغام لکھ دینا

قلم والو! لِکھائی کے تمہیں آداب سمجھا دوں

وہاں پھر کچھ نہ لکھنا جس جگہ اسلام لکھ دینا

بزرگوں کی دعا میرے لہو میں جب سے شامل ہے

مجھے آتا ہے ہر پتھر پہ اپنا نام لکھ دینا

جلایا جا رہا ہے اس لیے دستورِ مے خانہ

کہیں پر پیاس لکھ دینا، کہیں پر جام لکھ دینا

ھَذا مِن فضلِ رَبّی لکھنے والوں سے گُزارش ہے

پڑوسی کے لہُو کا بھی بقایا دام لکھ دینا

شرافت کی ہواؤں پر کہاں تک تبصرہ کیجے

دریچے ہو گئے ہیں آج کل بدنام لکھ دینا

ریاض اس دور کے صیّاد کو یہ فن بھی آتا ہے

درختوں پر سویرے ہی سے وقتِ شام لکھ دینا


صغیر ریاض

No comments:

Post a Comment