Showing posts with label قندیل جعفری. Show all posts
Showing posts with label قندیل جعفری. Show all posts

Wednesday, 9 June 2021

ہم بھی خاموش رہے تجھ کو بھی آیا نہ خیال

 ہم بھی خاموش رہے، تجھ کو بھی آیا نہ خیال

دل میں تھی ایک لگن لب پہ تھا بس ایک سوال

تجھ کو رنگوں کی ہے پہچان تو پھر غور سے دیکھ

میرے آنچل میں بھی شامل ہے مِرا رنگِ ملال

پھر کوئی دل میں تِرے آئے گا بسنے کے لیے

پہلے اس گھر سے تو آسیبِ کدورت کو نکال

Sunday, 6 June 2021

اب تو اظہار محبت سے بھی گھبراتے ہیں لوگ

 اب تو اظہارِ محبت سے بھی گھبراتے ہیں لوگ

اپنے گھر میں بھی ہمیں تنہا نظر آتے ہیں لوگ

سچ تو یہ ہے اُٹھ چکی ہو جب زمانے سے وفا

دردِ خلوت زندگی میں جب ہو دردِ لا دوا

کشتئ تسکین کو جس دم کنارے چھوڑ دیں

درد کے مارے بشر کو جب سہارے چھوڑ دیں

Monday, 26 April 2021

بظاہر تو کوئی بھی غم نہیں ہے

 بظاہر تو کوئی بھی غم نہیں ہے

مگر  دل کی اُداسی کم نہیں ہے

تُو دھڑکن کی طرح دل میں بسا ہے

کہا کس نے کہ تُو محرم نہیں ہے

جسے دیکھو ہے اپنے آپ میں گم

محبت کا کوئی موسم نہیں ہے

Monday, 19 April 2021

غموں کا زہر پینا آ گیا ہے

 غموں کا زہر پینا آ گیا ہے

مجھے مر مر کے جینا آ گیا ہے

دُھواں اُٹھنے نہیں دیتی جگر سے

سُلگنے کا قرینہ آ گیا ہے

محبت اس سے رہتی ہے گریزاں

وہ جس کے دل میں کینہ آ گیا ہے

Sunday, 18 April 2021

امید کا چراغ بجھایا نہیں ابھی

 امید کا چراغ بجھایا نہیں ابھی

اس کے خطوں کو میں نے جلایا نہیں ابھی

میں آزما رہی ہوں ابھی شدتِ فراق

احسانِ وصل میں نے اٹھایا نہیں ابھی

وہ بھی انا پرست ہے پیچھے ہٹا ہوا

میں نے بھی دستِ شوق بڑھایا نہیں ابھی

کشید کی ہے اندھیروں سے روشنی میں نے

 کشید کی ہے اندھیروں سے روشنی میں نے

کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی میں نے

تھی جس میں وسعتِ دریا وہ آنکھ یاد آئی

کسی کی آنکھ میں دیکھی ہے جب نمی میں نے

قدم قدم پہ مِری عمرِ اعتماد گھٹی

بڑھایا جب بھی کبھی دستِ دوستی میں نے

Saturday, 17 April 2021

بظاہر تو کوئی بھی غم نہیں ہے

 بظاہر تو کوئی بھی غم نہیں ہے

مگر  دل کی اُداسی کم نہیں ہے

تُو دھڑکن کی طرح دل میں بسا ہے

کہا کس نے کہ تُو محرم نہیں ہے

جسے دیکھو ہے اپنے آپ میں گم

محبت کا کوئی موسم نہیں ہے