ہم بھی خاموش رہے، تجھ کو بھی آیا نہ خیال
دل میں تھی ایک لگن لب پہ تھا بس ایک سوال
تجھ کو رنگوں کی ہے پہچان تو پھر غور سے دیکھ
میرے آنچل میں بھی شامل ہے مِرا رنگِ ملال
پھر کوئی دل میں تِرے آئے گا بسنے کے لیے
پہلے اس گھر سے تو آسیبِ کدورت کو نکال
ہم بھی خاموش رہے، تجھ کو بھی آیا نہ خیال
دل میں تھی ایک لگن لب پہ تھا بس ایک سوال
تجھ کو رنگوں کی ہے پہچان تو پھر غور سے دیکھ
میرے آنچل میں بھی شامل ہے مِرا رنگِ ملال
پھر کوئی دل میں تِرے آئے گا بسنے کے لیے
پہلے اس گھر سے تو آسیبِ کدورت کو نکال
اب تو اظہارِ محبت سے بھی گھبراتے ہیں لوگ
اپنے گھر میں بھی ہمیں تنہا نظر آتے ہیں لوگ
سچ تو یہ ہے اُٹھ چکی ہو جب زمانے سے وفا
دردِ خلوت زندگی میں جب ہو دردِ لا دوا
کشتئ تسکین کو جس دم کنارے چھوڑ دیں
درد کے مارے بشر کو جب سہارے چھوڑ دیں
بظاہر تو کوئی بھی غم نہیں ہے
مگر دل کی اُداسی کم نہیں ہے
تُو دھڑکن کی طرح دل میں بسا ہے
کہا کس نے کہ تُو محرم نہیں ہے
جسے دیکھو ہے اپنے آپ میں گم
محبت کا کوئی موسم نہیں ہے
غموں کا زہر پینا آ گیا ہے
مجھے مر مر کے جینا آ گیا ہے
دُھواں اُٹھنے نہیں دیتی جگر سے
سُلگنے کا قرینہ آ گیا ہے
محبت اس سے رہتی ہے گریزاں
وہ جس کے دل میں کینہ آ گیا ہے
امید کا چراغ بجھایا نہیں ابھی
اس کے خطوں کو میں نے جلایا نہیں ابھی
میں آزما رہی ہوں ابھی شدتِ فراق
احسانِ وصل میں نے اٹھایا نہیں ابھی
وہ بھی انا پرست ہے پیچھے ہٹا ہوا
میں نے بھی دستِ شوق بڑھایا نہیں ابھی
کشید کی ہے اندھیروں سے روشنی میں نے
کچھ اس طرح سے گزاری ہے زندگی میں نے
تھی جس میں وسعتِ دریا وہ آنکھ یاد آئی
کسی کی آنکھ میں دیکھی ہے جب نمی میں نے
قدم قدم پہ مِری عمرِ اعتماد گھٹی
بڑھایا جب بھی کبھی دستِ دوستی میں نے
بظاہر تو کوئی بھی غم نہیں ہے
مگر دل کی اُداسی کم نہیں ہے
تُو دھڑکن کی طرح دل میں بسا ہے
کہا کس نے کہ تُو محرم نہیں ہے
جسے دیکھو ہے اپنے آپ میں گم
محبت کا کوئی موسم نہیں ہے