امید کا چراغ بجھایا نہیں ابھی
اس کے خطوں کو میں نے جلایا نہیں ابھی
میں آزما رہی ہوں ابھی شدتِ فراق
احسانِ وصل میں نے اٹھایا نہیں ابھی
وہ بھی انا پرست ہے پیچھے ہٹا ہوا
میں نے بھی دستِ شوق بڑھایا نہیں ابھی
آنکھوں نے بھی سراب کو دریا نہیں کہا
دل بھی کسی فریب میں آیا نہیں ابھی
کرتا نہیں ہے سوزِ جگر کا وہ اعتراف
میں نے بھی دل کا زخم دکھایا نہیں ابھی
قندیل جعفری
No comments:
Post a Comment