Sunday, 18 April 2021

امید کا چراغ بجھایا نہیں ابھی

 امید کا چراغ بجھایا نہیں ابھی

اس کے خطوں کو میں نے جلایا نہیں ابھی

میں آزما رہی ہوں ابھی شدتِ فراق

احسانِ وصل میں نے اٹھایا نہیں ابھی

وہ بھی انا پرست ہے پیچھے ہٹا ہوا

میں نے بھی دستِ شوق بڑھایا نہیں ابھی

آنکھوں نے بھی سراب کو دریا نہیں کہا

دل بھی کسی فریب میں آیا نہیں ابھی

کرتا نہیں ہے سوزِ جگر کا وہ اعتراف

میں نے بھی دل کا زخم دکھایا نہیں ابھی


قندیل جعفری

No comments:

Post a Comment