چاند تاروں میں نہ سورج کی ضیا میں ڈھونڈوں
وہ خدا ہے تو اسے خلقِ خدا میں ڈھونڈوں
جونہی ساون کی برسنے لگے پہلی بارش
جذبۂ شوق کو رِم جھم کی نوا میں ڈھونڈوں
دورِ نو میں ہوئی ناپید وفا کی تہذیب
اس کو جا کر میں پہاڑوں کی گھپا میں ڈھونڈوں
چاند تاروں میں نہ سورج کی ضیا میں ڈھونڈوں
وہ خدا ہے تو اسے خلقِ خدا میں ڈھونڈوں
جونہی ساون کی برسنے لگے پہلی بارش
جذبۂ شوق کو رِم جھم کی نوا میں ڈھونڈوں
دورِ نو میں ہوئی ناپید وفا کی تہذیب
اس کو جا کر میں پہاڑوں کی گھپا میں ڈھونڈوں
دنیا پہ مِرے یار بھروسہ نہ کیا کر
دھوکا یہ تجھے دے گی سدا اپنا بنا کر
آواز تو سچائی کی زندہ ہے ابھی تک
کیا مل گیا منصور کو سُولی پہ چڑھا کر
جب وقت نے خواہش کے نقابوں کو اٹھایا
خوش فہمی مِری بیٹھ گئی سر کو جُھکا کر
تِرے دئیے ہوئے زخموں سے پیار کرتے ہوئے
میں جی رہا ہوں ہر اک حد کو پار کرتے ہوئے
میں دل کی آنکھ سے دیکھوں تِرے سراپے کو
خیال و خواب سے نقش و نگار کرتے ہوئے
عزیز تھا تو مِرے دل کو ایک عرصہ تک
میں غمزدہ ہوں بہت تجھ پہ وار کرتے ہوئے
یقیں بھی ہو تو گماں کے قریب ہوتی ہیں
تمہاری باتیں بھی اتنی عجیب ہوتی ہیں
غمِ حیات کی سختی پہ رنج مت کرنا
دکھوں کے بعد ہی خوشیاں نصیب ہوتی ہیں
تھکا دیا ہے مجھے ہجر کی مسافت نے
شبِ وصال میں نیندیں رقیب ہوتی ہیں
نقشِ قدم میں ڈھونڈ نہ رختِ سفر میں ڈھونڈ
منزل کو ڈھونڈنا ہے تو ذوقِ نظر میں ڈھونڈ
پھر ہار ہو یا جیت،۔ مقدر کی بات ہے
ہر لمحہ اپنی فتح کو عزم و ہُنر میں ڈھونڈ
منظر جو خُوش نما تھا چھُپا ہے غُبار میں
خوشیوں کو انتظار کی دنیا کے گھر میں ڈھونڈ