Showing posts with label جہانگیر معید. Show all posts
Showing posts with label جہانگیر معید. Show all posts

Sunday, 5 September 2021

چاند تاروں میں نہ سورج کی ضیا میں ڈھونڈوں

 چاند تاروں میں نہ سورج کی ضیا میں ڈھونڈوں

وہ خدا ہے تو اسے خلقِ خدا میں ڈھونڈوں

جونہی ساون کی برسنے لگے پہلی بارش

جذبۂ شوق کو رِم جھم کی نوا میں ڈھونڈوں

دورِ نو میں ہوئی ناپید وفا کی تہذیب

اس کو جا کر میں پہاڑوں کی گھپا میں ڈھونڈوں

Tuesday, 31 August 2021

دنیا پہ مرے یار بھروسہ نہ کیا کر

 دنیا پہ مِرے یار بھروسہ نہ کیا کر

دھوکا یہ تجھے دے گی سدا اپنا بنا کر 

آواز تو سچائی کی زندہ ہے ابھی تک 

کیا مل گیا منصور کو سُولی پہ چڑھا کر 

جب وقت نے خواہش کے نقابوں کو اٹھایا 

خوش فہمی مِری بیٹھ گئی سر کو جُھکا کر

Monday, 30 August 2021

ترے دئیے ہوئے زخموں سے پیار کرتے ہوئے

 تِرے دئیے ہوئے زخموں سے پیار کرتے ہوئے

میں جی رہا ہوں ہر اک حد کو پار کرتے ہوئے

میں دل کی آنکھ سے دیکھوں تِرے سراپے کو

خیال و خواب سے نقش و نگار کرتے ہوئے

عزیز تھا تو مِرے دل کو ایک عرصہ تک

میں غمزدہ ہوں بہت تجھ پہ وار کرتے ہوئے

Wednesday, 16 June 2021

یقیں بھی ہو تو گماں کے قریب ہوتی ہیں

 یقیں بھی ہو تو گماں کے قریب ہوتی ہیں

تمہاری باتیں بھی اتنی عجیب ہوتی ہیں

غمِ حیات کی سختی پہ رنج مت کرنا

دکھوں کے بعد ہی خوشیاں نصیب ہوتی ہیں

تھکا دیا ہے مجھے ہجر کی مسافت نے

شبِ وصال میں نیندیں رقیب ہوتی ہیں

Sunday, 18 April 2021

نقش قدم میں ڈھونڈ نہ رخت سفر میں ڈھونڈ

 نقشِ قدم میں ڈھونڈ نہ رختِ سفر میں ڈھونڈ

منزل کو ڈھونڈنا ہے تو ذوقِ نظر میں ڈھونڈ

پھر ہار ہو یا جیت،۔ مقدر کی بات ہے

ہر لمحہ اپنی فتح کو عزم و ہُنر میں ڈھونڈ

منظر جو خُوش نما تھا چھُپا ہے غُبار میں

خوشیوں کو انتظار کی دنیا کے گھر میں ڈھونڈ