چاند تاروں میں نہ سورج کی ضیا میں ڈھونڈوں
وہ خدا ہے تو اسے خلقِ خدا میں ڈھونڈوں
جونہی ساون کی برسنے لگے پہلی بارش
جذبۂ شوق کو رِم جھم کی نوا میں ڈھونڈوں
دورِ نو میں ہوئی ناپید وفا کی تہذیب
اس کو جا کر میں پہاڑوں کی گھپا میں ڈھونڈوں
جو نہ بستی میں تجھے ڈھونڈوں تو اے زیست بتا
تپتے صحراؤں کی بے آب فضا میں ڈھونڈوں
رات کے پچھلے پہر دل کی اداسی کا سبب
اپنے بوسیدہ سے کمرے کی ہوا میں ڈھونڈوں
وقت کی سُولی پہ حق بات کا پرچار کرے
پھر سے منصور کوئی دورِجفا میں ڈھونڈوں
جس میں خامی کا تناسب نہ ہو ذرہ بھر بھی
ایسا شہکار کہاں ارض و سما میں ڈھونڈوں
میری آنکھوں میں اتر خوابِ حقیقت بن کر
تجھ کو احساسِ محبت کی بقا میں ڈھونڈوں
زندگی رقصاں ہے دریا کے کنارے اے معید
اس کو ساحل کی دل افروز فضا میں ڈھونڈوں
جہانگیر معید
No comments:
Post a Comment