اپنی پھیلائی ہتھیلی سے بھی ڈر لگتا ہے
ایک انجانی پہیلی سے بھی ڈر لگتا ہے
اتنی چاہت کا تو اندازہ نہیں تھا پہلے
عام سی، کڑوی کسیلی سے بھی ڈر لگتا ہے
وہ بھی دیکھے جو تجھے عشق نہ ہو جائے اسے
ساتھ میں آئی سہیلی سے بھی ڈر لگتا ہے
تُو اگر ساتھ نہ ہو، تب مِرا کانپے ہے بدن
اور پھر رات اکیلی سے بھی ڈر لگتا ہے
کاش جینے کا سلیقہ میں کبھی سیکھ سکوں
زندگی جیسی پہیلی سے بھی ڈر لگتا ہے
جس کے ہاتھوں کو ہما پیار کی اُترن نہ ملی
اس کو پوشاک نویلی سے بھی ڈر لگتا ہے
ہما شاہ
No comments:
Post a Comment