جدا نہ تجھ سے کرے دشمنوں کی چال مجھے
میں تیری سانس ہوں سینے میں رکھ بحال مجھے
نہ جائیدادِ محبت سے عاق کر مجھ کو
تُو اپنے دل کے جزیرے سے مت نکال مجھے
تِرے فراق کی دلدل میں پھنس گیا ہوں میں
تُو اس عذاب سے آ کر نکال مجھے
جدا نہ تجھ سے کرے دشمنوں کی چال مجھے
میں تیری سانس ہوں سینے میں رکھ بحال مجھے
نہ جائیدادِ محبت سے عاق کر مجھ کو
تُو اپنے دل کے جزیرے سے مت نکال مجھے
تِرے فراق کی دلدل میں پھنس گیا ہوں میں
تُو اس عذاب سے آ کر نکال مجھے
زندگی اور موت کا یوں رابطہ رہ جائے گا
مقتلوں کو جانے والا راستہ رہ جائے گا
خشک ہو جائیں گی آنکھیں اور چھٹ جائے گا ابر
زخمِ دل ویسے کا ویسا اور ہرا رہ جائے گا
بجھ چکی ہوں گی تمہارے گھر کی ساری مشعلیں
اور تُو لوگوں میں شمعیں بانٹتا رہ جائے گا
پھول سے لوگوں کو مٹی میں ملا کر آئے گی
چل رہی ہے جو ہوا سب کچھ فنا کر جائے گی
زندگی گزرے گی مجھ کو روند کر پیروں تلے
موت لیکن مجھ کو سینے سے لگا کر جائے گی
وہ کسی کی یاد میں جلتی ہوئی شمع فراق
خود بھی پگھلے گی مری آنکھوں کو بھی پگھلائے گی
زمانے میں سروش اپنی یہی پہچان رکھیں گے
ہم امریکہ میں رہ کر دل کو پاکستان رکھیں گے
تجھے دل میں بٹھائیں گے، کبھی لکھیں گے آنکھوں پر
خیال یار! تجھ کو اس طرح مہمان رکھیں گے
تِری آنکھوں کو دے کر روشنی اپنی نگاہوں کی
تِرے بِلور سے پیکر میں اپنی جان رکھیں گے
میں جو ترے گھر اس دن پہلی بار آیا تھا
لینا دینا کیا تھا؟، جیون ہار آیا تھا
بھول آیا تھا ہاتھ بھی تیرے دروازے پر
آنکھیں بھی تیرے چہرے پر وار آیا تھا
سانسیں کہاں بھول آیا تھا؟ کچھ یاد نہیں
اتنا یاد ہے، تجھ پر بے حد پیار آیا تھا