Showing posts with label شکیل سروش. Show all posts
Showing posts with label شکیل سروش. Show all posts

Monday, 11 January 2021

جدا نہ تجھ سے کرے دشمنوں کی چال مجھے

 جدا نہ تجھ سے کرے دشمنوں کی چال مجھے

میں تیری سانس ہوں سینے میں رکھ بحال مجھے

نہ جائیدادِ محبت سے عاق کر مجھ کو

تُو اپنے دل کے جزیرے سے مت نکال مجھے

تِرے فراق کی دلدل میں پھنس گیا ہوں میں

تُو اس عذاب سے آ کر نکال مجھے

Sunday, 10 January 2021

زندگی اور موت کا یوں رابطہ رہ جائے گا

 زندگی اور موت کا یوں رابطہ رہ جائے گا

مقتلوں کو جانے والا راستہ رہ جائے گا

خشک ہو جائیں گی آنکھیں اور چھٹ جائے گا ابر

زخمِ دل ویسے کا ویسا اور ہرا رہ جائے گا

بجھ چکی ہوں گی تمہارے گھر کی ساری مشعلیں

اور تُو لوگوں میں شمعیں بانٹتا رہ جائے گا

Thursday, 31 December 2020

پھول سے لوگوں کو مٹی میں ملا کر آئے گی

 پھول سے لوگوں کو مٹی میں ملا کر آئے گی

چل رہی ہے جو ہوا سب کچھ فنا کر جائے گی

زندگی گزرے گی مجھ کو روند کر پیروں تلے

موت لیکن مجھ کو سینے سے لگا کر جائے گی

وہ کسی کی یاد میں جلتی ہوئی شمع فراق

خود بھی پگھلے گی مری آنکھوں کو بھی پگھلائے گی

Wednesday, 30 December 2020

زمانے میں ‌سروش اپنی یہی پہچان رکھیں گے

 زمانے میں ‌سروش اپنی یہی پہچان رکھیں گے

ہم امریکہ میں ‌رہ کر دل کو پاکستان رکھیں گے

تجھے دل میں‌ بٹھائیں گے، کبھی لکھیں گے آنکھوں پر

خیال یار! تجھ کو اس طرح‌ مہمان رکھیں‌ گے

تِری آنکھوں کو دے کر روشنی اپنی نگاہوں کی

تِرے بِلور سے پیکر میں اپنی جان رکھیں گے

Monday, 28 December 2020

میں‌ جو ترے گھر اس دن پہلی بار آیا تھا

 میں‌ جو ترے گھر اس دن پہلی بار آیا تھا

لینا دینا کیا تھا؟، جیون ہار آیا تھا

بھول آیا تھا ہاتھ بھی تیرے دروازے پر

آنکھیں بھی تیرے چہرے پر وار آیا تھا

سانسیں کہاں ‌بھول آیا تھا؟ کچھ یاد نہیں

اتنا یاد ہے، تجھ پر بے حد پیار آیا تھا