جدا نہ تجھ سے کرے دشمنوں کی چال مجھے
میں تیری سانس ہوں سینے میں رکھ بحال مجھے
نہ جائیدادِ محبت سے عاق کر مجھ کو
تُو اپنے دل کے جزیرے سے مت نکال مجھے
تِرے فراق کی دلدل میں پھنس گیا ہوں میں
تُو اس عذاب سے آ کر نکال مجھے
نہ اتنی آنچ دے مجھ کو تُو اپنی نفرت کی
جفا کے کھولتے پانی میں مت ابال مجھے
عزیزِ جاں ہیں سروش اور زیست سے پیارے
یہ میرے پھول سے بچے، یہ نونہال مجھے
شکیل سروش
No comments:
Post a Comment