Monday, 11 January 2021

جدا نہ تجھ سے کرے دشمنوں کی چال مجھے

 جدا نہ تجھ سے کرے دشمنوں کی چال مجھے

میں تیری سانس ہوں سینے میں رکھ بحال مجھے

نہ جائیدادِ محبت سے عاق کر مجھ کو

تُو اپنے دل کے جزیرے سے مت نکال مجھے

تِرے فراق کی دلدل میں پھنس گیا ہوں میں

تُو اس عذاب سے آ کر نکال مجھے

نہ اتنی آنچ دے مجھ کو تُو اپنی نفرت کی

جفا کے کھولتے پانی میں مت ابال مجھے

عزیزِ جاں ہیں سروش اور زیست سے پیارے

یہ میرے پھول سے بچے، یہ نونہال مجھے


شکیل سروش

No comments:

Post a Comment