Monday, 11 January 2021

وہ پاس کیا ذرا سا مسکرا کے بیٹھ گیا

 وہ پاس کیا ذرا سا مسکرا کے بیٹھ گیا 

میں اس مذاق کو دل سے لگا کے بیٹھ گیا 

جب اس کی بزم میں دار و رسن کی بات چلی 

میں جھٹ سے اٹھ گیا اور آگے آ کے بیٹھ گیا

درخت کاٹ کے جب تھک گیا لکڑ ہارا 

تو اک درخت کے سائے میں جا کے بیٹھ گیا 

تمہارے در سے میں کب اٹھنا چاہتا تھا مگر 

یہ میرا دل ہے کہ مجھ کو اٹھا کے بیٹھ گیا

جو میرے واسطے کرسی لگایا کرتا تھا 

وہ میری کرسی سے کرسی لگا کے بیٹھ گیا 

پھر اس کے بعد کئی لوگ اٹھ کے جانے لگے

میں اٹھ کے جانے کا نسخہ بتا کے بیٹھ گیا


زبیر تابش

No comments:

Post a Comment