دولتِ حرف و بیاں ساتھ لیے پھرتے ہیں
ہم محبت کا جہاں ساتھ لیے پھرتے ہیں
اک تبسم پہ نہ جانا کہ تِرے دیوانے
غم کا اک کوہِ گِراں ساتھ لیے پھرتے ہیں
جس پہ اک سانس کی تکرار سے بال آ جائے
ہم وہ شیشے کا مکاں ساتھ لیے پھرتے ہیں
آندھیاں اس کو بجھانے کے لیے ہیں بیتاب
ہم جو یہ مشعل جاں ساتھ لیے پھرتے ہیں
دشت غربت میں بزرگوں کی دعا ہے ہمراہ
سایۂ ابرِ رواں ساتھ لیے پھرتے ہیں
سنگِ در سے جو تِرے صورت سوغات ملا
روشنی کا وہ جہاں ساتھ لیے پھرتے ہیں
ہم نے دیکھا تو نہیں صرف سنا ہے کہ سروش
آج کل سرِ رواں ساتھ لیے پھرتے ہیں
رفعت سروش
No comments:
Post a Comment