یہ جنوں مجھ میں رمیدہ جو بجائے خوں ہے
ایک گردش سی رگ و پے میں ورائے خوں ہے
دل جو ہے آہن و آہنگ کی ابجد سے کشید
اس میں نا لَے کی ہُمک ہے نہ صدائے خوں ہے
میں جو سرگرداں ہوں اک خوابِ دگر کی دھن میں
مجھ میں رہگیر کوئی تیغ برائے خوں ہے
کیسے یکجا کیے اس رُت نے بہار و وحشت
ہر گلِ شاخ پہ تسخیرِ خدائے خوں ہے
نقش پڑھتے جو رہے شہر کی دیوار پہ ہم
یک بہ یک ہم کو ہوا اِذن صدائے خوں ہے
ہم نے قرضوں کی طرح وقت چکایا اپنا
ہم فقیروں کو بہت تنگ قبائے خوں ہے
رضوان فاخر
No comments:
Post a Comment