Monday, 11 January 2021

پھولوں کو ویسے بھی مرجھانا ہے مرجھائیں گے

 پھولوں کو ویسے بھی مرجھانا ہے مرجھائیں گے

کھڑکیاں کھولیں تو سناٹے چلے آئیں گے

لاکھ ہم اجلی رکھیں شہر کی دیواروں کو

شہر نامہ تو بہرحال لکھے جائیں گے

راکھ رہ جائے گی روداد سنانے کے لیے

یہ تو مہمان پرندے ہیں چلے جائیں گے

اپنی لغزش کو تو الزام نہ دے گا کوئی

لوگ تھک ہار کے مجرم ہمیں ٹھہرائیں گے

آج جن جگہوں کی تفریح سے محفوظ ہوں میں

میرے حالات مجھے کل وہاں پہنچائیں گے

راستے شام کو گھر لے کے نہیں لوٹیں گے

ہم تبرک کی طرح راہوں میں بٹ جائیں گے

دن کسی طرح سے کٹ جائے گا سڑکوں پہ شفق

شام پھر آئے گی ہم شام سے گھبرائیں گے


فاروق شفق

No comments:

Post a Comment