Showing posts with label تابش الوری. Show all posts
Showing posts with label تابش الوری. Show all posts

Thursday, 4 July 2024

فلسطین کی چیخ فضا میں بارود ہے لہو ہے

 فلسطین کی چیخ


کھلی فضا میں

خنک ہوا میں

بڑی گھٹن ہے

بڑی چبھن ہے

زمیں ہے اک بے سلاخ زنداں

فلک کی چادر بھی قہر ساماں

Saturday, 9 October 2021

اب کے عجب سفر پہ نکلنا پڑا مجھے

 اب کے عجب سفر پہ نکلنا پڑا مجھے

راہیں کسی کے نام تھیں چلنا پڑا مجھے

تاریک شب نے سارے ستارے بجھا دیے

میں صبح کا چراغ تھا جلنا پڑا مجھے

یارانِ دشت رونقِ بازار بن گئے

سنسان راستوں پہ نکلنا پڑا مجھے

Monday, 24 August 2020

کشمیر کی چیخ بلا کا کہرام کو بہ کو ہے

کشمیر کی چیخ

کھلی فضا میں
خنک ہوا میں
بڑی گھٹن ہے
بڑی چبھن ہے
زمیں ہے اک بے سلاخ زنداں
فلک کی چادر بھی قہر ساماں

کر کے منافقین کے چہروں کو فق چلے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

کر کے منافقین کے چہروں کو فق چلے
اعلان حق کے ساتھ شہنشاہ حق چلے
حق دق تھے لوگ قافلۂ اہلبیت پر
اعداۓ حق کے سینوں کو کر کر کے شق چلے
مچنے لگا تھا بیعتِ باطل کا غلغلہ
پیغام حق سنانے سفیران حق چلے

اس وجود روشن سے ہر طرف اجالا ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

اس وجودِ روشنﷺ سے ہر طرف اجالا ہے
چاند اس کا پرتو ہے سورج اس کا ہالہ ہے
فکر و ذکر بھی اس کا، ہجر و وصل بھی اس کا
بس اسی کی چاہت ہے،۔ بس وہی حوالہ ہے
سب کے سب جہانوں میں اس کی حکمرانی ہے
سب کے سب زمانوں میں اس کا بول بالاہے

Wednesday, 28 December 2016

میرا وجدان مجھے کل کا پتہ دیتا ہے

میرا وجدان مجھے کل کا پتہ دیتا ہے
خواب میں اصل حقیقت بھی دکھا دیتا ہے
کون دیتا ہے مِرے پختہ ارادوں کو شکست
کون تدبیر کو تقدیر بنا دیتا ہے
کئی صدیاں کبھی اک لمحہ جنم دیتی ہیں
ایک لمحہ کئی صدیوں کی سزا دیتا ہے

میں کہاں سے چلا تھا تری چاہ میں دل دھڑکنے لگا سوچتے سوچتے

میں کہاں سے چلا تھا تِری چاہ میں دل دھڑکنے لگا سوچتے سوچتے
اجنبی راستے، بے صدا منزلیں،۔ میں کہاں آ گیا سوچتے سوچتے
اب گھنیرے اندھیرے ہیں گھیرے ہوئے دور کچھ اور ہم سے سویرے ہوئے 
روشنی کے کہاں پر بسیرے ہوئے،۔ ذہن دھندلا گیا سوچتے سوچتے
مشعلیں بجھ گئیں نقش پا مٹ گئے، منزلیں چھپ گئیں رہنما لٹ گئے
بے یقینی کے صحرا میں گم ہو گیا فکر کا قافلہ،۔ سوچتے سوچتے

Sunday, 25 December 2016

چھ ستمبر کو شب خون مارا گیا

چھ ستمبر

چھ ستمبر کو شب خون مارا گیا
ہم بڑھے اور فصیل لہو ہو گئے
برتری کا غرورِ عدو مٹ گیا
جنگ میں اہلِ حق سرخرو ہو گئے
چھ ستمبر دفاعِ وطن کا نشاں
چھ ستمبر شجاعت کی تاریخ ہے

ایثار جوش شوق لگن کو مرا سلام

یوم دفاع پاکستان

ایثارِ جوش شوقِ لگن کو مِرا سلام
زندہ دلانِ قوم و وطن کو مرا سلام
تیغِ خیال، تیشۂ فن کو مرا سلام
وابستگانِ شہرِ سخن کو مرا سلام
زندہ بدن کی ڈھال نشانِ کمال ہے 
معجز نما حصارِ وطن کو مرا سلام

نہ کوئی چاند نہ سورج مرے وطن کی طرح

ملی نغمہ

نہ کوئی چاند نہ سورج مِرے وطن کی طرح
محبتوں کا چمن، مامتا کے بن کی طرح
مِرا خیال ، مِری جستجو، مِری آواز
وطن کے ساتھ ہے پیوستہ جان و تن کی طرح
مِری گلی، مِری بستی، مِری فضا، مِری آن
خود اپنا رنگ، خود اپنی مہک دلہن کی طرح

Tuesday, 1 November 2016

دعا دستک کی صورت ہے

دعا دستک کی صورت ہے
اگر دستک مسلسل ہو
مؤدب ہو، مہذب ہو
تو دروازہ بالآخر کھل ہی جاتا ہے
کرم برفاب بھی ہو تو
تمنا کی تپش سے گھل ہی جاتا ہے

جب کہیں قافلہ ہائے جذب و جنوں چلتے ہیں

جب کہیں قافلہ ہائے جذب و جنوں چلتے ہیں
پھر ہواؤں کے پھریروں کے دِئیے جلتے ہیں
فطرت آغوشِ محبت میں انہیں پالتی ہے
معجزے وقت کی ٹکسال میں کب ڈھلتے ہیں 
موسمِ گل کی جوانی میں بھی ویرانی ہے
کبھی پھلدار شجر بھی تو نہیں پھلتے ہیں

سفر کرتے ہیں ذوق کربلا بھی ساتھ رکھتے ہیں

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

سفر کرتے ہیں ذوقِ کربلا بھی ساتھ رکھتے ہیں
فنا کی راہ چلتے ہیں بقا بھی ساتھ رکھتے ہیں
اندھیروں کے سفر میں راہ روشن ہوتی جاتی ہے
نکلتے ہیں تو ہم اک اک دِیا بھی ساتھ رکھتے ہیں
ہمارے عہد کے اشراف کس مشکل میں آئے ہیں
انا ہی کم نہیں جھوٹی، انا بھی ساتھ رکھتے ہیں