فلسطین کی چیخ
کھلی فضا میں
خنک ہوا میں
بڑی گھٹن ہے
بڑی چبھن ہے
زمیں ہے اک بے سلاخ زنداں
فلک کی چادر بھی قہر ساماں
فلسطین کی چیخ
کھلی فضا میں
خنک ہوا میں
بڑی گھٹن ہے
بڑی چبھن ہے
زمیں ہے اک بے سلاخ زنداں
فلک کی چادر بھی قہر ساماں
اب کے عجب سفر پہ نکلنا پڑا مجھے
راہیں کسی کے نام تھیں چلنا پڑا مجھے
تاریک شب نے سارے ستارے بجھا دیے
میں صبح کا چراغ تھا جلنا پڑا مجھے
یارانِ دشت رونقِ بازار بن گئے
سنسان راستوں پہ نکلنا پڑا مجھے