عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
کر کے منافقین کے چہروں کو فق چلے
اعلان حق کے ساتھ شہنشاہ حق چلے
حق دق تھے لوگ قافلۂ اہلبیت پر
اعداۓ حق کے سینوں کو کر کر کے شق چلے
مچنے لگا تھا بیعتِ باطل کا غلغلہ
پیغام حق سنانے سفیران حق چلے
برپا تھا راہِ حق میں شہادت کا معرکہ
یوں تو ہزارہا تھے فقط مستحق چلے
ہوتے ہیں قول و فعل ہم آہنگ کس طرح
سمجھا کے دینِ حق کو سبق در سبق چلے
سب رہروانِ حق کی تمنا بہشت تھی
ہو کر رضاۓ حق کیلئے جاں بحق چلے
میں نے بھی پیروی میں زمینِ ادق چنی
جو یاۓ حق جو سمتِ زمینِ ادق چلے
تابش الوری
No comments:
Post a Comment