Monday, 24 August 2020

کر کے منافقین کے چہروں کو فق چلے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

کر کے منافقین کے چہروں کو فق چلے
اعلان حق کے ساتھ شہنشاہ حق چلے
حق دق تھے لوگ قافلۂ اہلبیت پر
اعداۓ حق کے سینوں کو کر کر کے شق چلے
مچنے لگا تھا بیعتِ باطل کا غلغلہ
پیغام حق سنانے سفیران حق چلے

برپا تھا راہِ حق میں شہادت کا معرکہ
یوں تو ہزارہا تھے فقط مستحق چلے
ہوتے ہیں قول و فعل ہم آہنگ کس طرح
سمجھا کے دینِ حق کو سبق در سبق چلے
سب رہروانِ حق کی تمنا بہشت تھی
ہو کر رضاۓ حق کیلئے جاں بحق چلے
میں نے بھی پیروی میں زمینِ ادق چنی
جو یاۓ حق جو سمتِ زمینِ ادق چلے

تابش الوری

No comments:

Post a Comment