Showing posts with label وحید اختر. Show all posts
Showing posts with label وحید اختر. Show all posts

Monday, 14 February 2022

ہم جو ٹوٹے تو غم دہر کا پیمانہ بنے

 ہم جو ٹوٹے تو غمِ دہر کا پیمانہ بنے

خاک میں مل کے بھی خاک‌ رہ میخانہ بنے

کون اس بزم میں سمجھے گا غم دل کی زباں

بات چھوٹی سی جب افسانہ در افسانہ بنے

سنگ اندازوں سے اونچا ہے بہت اپنا مقام

ورنہ ممکن تھا نشانہ سر دیوانہ بنے

Saturday, 14 August 2021

دل میں اب تک ہے کہیں، تیرے آنے کا گماں

 دل میں اب تک ہے کہیں، تیرے آنے کا گماں

تجھ کو کھونے کی کسک تجھ کو پانے کا گماں

چاند تکتا ہی رہا،۔ اور وہ روتی ہی رہی

اس کو تکیے پہ رہا میرے شانے کا گماں

اس دوراہے سے بھلا کس طرف جائیں بتا

یاد رکھنے کی قسم، بھول جانے کا گماں

Wednesday, 30 December 2020

آگ اپنے ہی دامن کی ذرا پہلے بجھا لو

 آگ اپنے ہی دامن کی ذرا پہلے بجھا لو

فرصت ہو تو پھر ہم کو بھی جلنے سے بچا لو

اے قسمتِ فردا کے خوش آئند خیالو

راتیں نہ سہی، دن ہی مِرے آ کے اُجالو

پتھر کے صنم بھی کبھی کچھ بول سکے ہیں

اے بُت شکن اذہان کے خاموش سوالو

Monday, 26 October 2020

شب و روز تماشہ خیالات کی زنجیر کہاں کٹتی ہے

 شب و روز تماشہ


ذہن جب تک ہے

خیالات کی زنجیر کہاں کٹتی ہے

ہونٹ جب تک ہیں

سوالات کی زنجیر کہاں کٹتی ہے

بحث کرتے رہو لکھتے رہو نظمیں غزلیں

Friday, 28 August 2020

گمان و شک کے تلاطم اتار پار مجھے

گمان و شک کے تلاطم اتار پار مجھے
نہیں کنارا تو گرداب میں اتار مجھے
جو گل تھے زینتِ دستارِ شہسوارِ بہار
ملے ہیں بن کے غبارِ پسِ بہار مجھے
صلیبِ معرفتِ ذات کائنات ہے آج
وہ دن گئے کہ خوش آتی تھی کوئے یار مجھے

اک زمانے سے نہیں فرصت عشق خوباں

اک زمانے سے نہیں فرصتِ عشقِ خوباں
اپنی وحشت پہ ہے اب بھولے فسانوں کا گماں
فکر کی آگ میں جلنا ہے جہنم کا عذاب
ہو خلا سر میں تو دنیا بھی ہے جنت کا مکاں
رخصتِ غم بھی جو ملتی ہے تو اک دو دن کی
کوئی بچھڑے تو اسے ڈھونڈنے جائیں گے کہاں

سایہ ہے جہاں پھولوں کا وہ در نہیں ملتے

سایہ ہے جہاں پھولوں کا، وہ در نہیں ملتے
جو خلدِ دل و دیدہ ہیں وہ گھر نہیں ملتے
قرآنِ صداقت کو پیمبر نہیں ملتے
جبریل ہیں خاموش، سخن ور نہیں ملتے
خالی ہے مکاں دل کا کے دلبر نہیں ملتے
نظروں کو جو پڑھ لیں وہ نظر ور نہیں ملتے

Thursday, 27 August 2020

تم جو نہیں ہو رہنے لگی گھر کے اندر تنہائی

تم جو نہیں ہو، رہنے لگی گھر کے اندر تنہائی
محفل سے بھی مجھ کو اٹھا لاتی ہے جا کر تنہائی
کر کے وداع جو تم کو لوٹا، یار احباب نے بتلایا
پوچھ رہی تھی ملنے والوں سے میرا گھر تنہائی
میں تو کتابوں کی دنیا میں خود کو بہلا لیتا ہوں
میرے نام سے خط لکھتی ہے تم کو اکثر تنہائی

دیوانوں کو منزل کا پتا یاد نہیں ہے

دیوانوں کو منزل کا پتا یاد نہیں ہے
جب سے تِرا نقشِ کفِ پا یاد نہیں ہے
افسردگئ عشق کے کھلتے نہیں اسباب
کیا بات بھلا بیٹھے ہیں کیا یاد نہیں ہے
ہم دلزدگاں جیتے ہیں یادوں کے سہارے
ہاں مٹ گئے جس پر وہ ادا یاد نہیں ہے

دفترِ لوح و قلم یا درِ غم کھلتا ہے

دفترِ لوح و قلم یا درِ غم کھلتا ہے
ہونٹ کھلتے ہیں تو اک بابِ ستم کھلتا ہے
حرفِ انکار ہے کیوں نازِ جہنم کا حلیف
صرف اقرار پہ کیوں بابِ ارم کھلتا ہے
آبرو ہو نہ جو پیاری تو یہ دنیا ہے سخی
ہاتھ پھیلاؤ تو یہ طرزِ کرم کھلتا ہے

Saturday, 16 April 2016

تو غزل بن کے اتر بات مکمل ہو جائے

تو غزل بن کے اتر بات مکمل ہو جائے
منتظر دل کی مناجات مکمل ہو جائے
عمر بھر ملتے رہے پھر بھی نہ ملنے پائے
اس طرح مل، کہ ملاقات مکمل ہو جائے
دن میں بکھرا ہوں بہت، رات سمیٹے گی مجھے
تُو بھی آ جا تو مِری ذات مکمل ہو جائے

کیسا اس بزم کے لٹنے کا سماں ہوتا ہے

کیسا اس بزم کے لٹنے کا سماں ہوتا ہے
جس پہ ہر صبح اجڑنے کا گماں ہوتا ہے
میرے روٹھے ہوئے خوابوں ہی کی آواز نہ ہو
کون یہ پچھلے پہر نوحہ کناں ہوتا ہے
عمرِ ہر غم ہے بس اتنی تِرے اک غم کے سوا
شمع بجھ جائے تو پَل بھر کو دھواں ہوتا ہے

رات بھر خواب کے دریا میں سویرا دیکھا

رات بھر خواب کے دریا میں سویرا دیکھا
دن کے ساحل پہ جو اترے تو اندھیرا دیکھا
خود کو لکھا بھی ہے میں نے مٹایا بھی ہے خود
قلمِ غیر نے سایہ بھی نہ میرا دیکھا
جن کے چہروں پہ چمک، نور کا ہالا اطراف
ان کے ذہنوں کو جو کھولا تو اندھیرا دیکھا

جس کو مانا تھا خدا خاک کا پیکر نکلا

جس کو مانا تھا خدا خاک کا پیکر نکلا
ہاتھ آیا جو یقیں،۔ وہم سراسر نکلا
اک سفر دشت خرابی سرابوں تک ہے
آنکھ کھولی تو جہاں خواب کا منظر نکلا
کل جہاں ظلم نے کاٹی تھیں سروں کی فصلیں
نم ہوئی ہے تو اسی خاک سے لشکر نکلا