ہم جو ٹوٹے تو غمِ دہر کا پیمانہ بنے
خاک میں مل کے بھی خاک رہ میخانہ بنے
کون اس بزم میں سمجھے گا غم دل کی زباں
بات چھوٹی سی جب افسانہ در افسانہ بنے
سنگ اندازوں سے اونچا ہے بہت اپنا مقام
ورنہ ممکن تھا نشانہ سر دیوانہ بنے
ہم جو ٹوٹے تو غمِ دہر کا پیمانہ بنے
خاک میں مل کے بھی خاک رہ میخانہ بنے
کون اس بزم میں سمجھے گا غم دل کی زباں
بات چھوٹی سی جب افسانہ در افسانہ بنے
سنگ اندازوں سے اونچا ہے بہت اپنا مقام
ورنہ ممکن تھا نشانہ سر دیوانہ بنے
دل میں اب تک ہے کہیں، تیرے آنے کا گماں
تجھ کو کھونے کی کسک تجھ کو پانے کا گماں
چاند تکتا ہی رہا،۔ اور وہ روتی ہی رہی
اس کو تکیے پہ رہا میرے شانے کا گماں
اس دوراہے سے بھلا کس طرف جائیں بتا
یاد رکھنے کی قسم، بھول جانے کا گماں
آگ اپنے ہی دامن کی ذرا پہلے بجھا لو
فرصت ہو تو پھر ہم کو بھی جلنے سے بچا لو
اے قسمتِ فردا کے خوش آئند خیالو
راتیں نہ سہی، دن ہی مِرے آ کے اُجالو
پتھر کے صنم بھی کبھی کچھ بول سکے ہیں
اے بُت شکن اذہان کے خاموش سوالو
شب و روز تماشہ
ذہن جب تک ہے
خیالات کی زنجیر کہاں کٹتی ہے
ہونٹ جب تک ہیں
سوالات کی زنجیر کہاں کٹتی ہے
بحث کرتے رہو لکھتے رہو نظمیں غزلیں