Showing posts with label طاہرہ جبین. Show all posts
Showing posts with label طاہرہ جبین. Show all posts

Friday, 12 May 2023

میں کیا مثال دوں کوئی تری مثال کے بعد

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


میں کیا مثال دوں کوئی تِری مثال کے بعد

نہیں جمال کوئی بھی تِرے جمال کے بعد

عطا ہوئی وہ بلندی مِرے تخیل کو

خیال ہیچ ہوئے سب تِرے خیال کے بعد

یہ تیرے نام کا صدقہ ہے صاحب معراج

عروج مجھ کو ملا ہے جو ہر زوال کے بعد

Thursday, 22 July 2021

جو بھی حق پر ہو وہی دار و رسن تک پہنچے

 جو بھی حق پر ہو وہی دارورسن تک پہنچے

آدمی آج کا یوں رسمِ کہن تک پہنچے

بات ہو گُل کی جہاں اس کے لبوں تک آئے

ذکر جب سرو کا ہو اس کے بدن تک پہنچے

میں نے ٹھانی ہے حفاظت میں کروں گی اس کی

ہو جو ہمت تو خزاں میرے چمن تک پہنچے

Sunday, 18 July 2021

خواب کا رستہ تکتے تکتے غزل ہوئی ہے

 خواب کا رستہ تکتے تکتے غزل ہوئی ہے

نیند میں آنکھیں ملتے ملتے غزل ہوئی ہے

سُونی چھت پر تنہا بیٹھے بیٹھے اکثر

تم سے باتیں کرتے کرتے غزل ہوئی ہے

تم کو دیکھا تو دل اتنا زور سے دھڑکا

ہاتھ کو دل پر دھرتے دھرتے غزل ہوئی ہے

Thursday, 8 July 2021

میرے مزاج سے ملتا ہے کتنا تیرا مزاج

 تجھے دوست کہوں کہ اپنا ہی کوئی عکس؟


میرے مزاج سے ملتا ہے

کتنا تیرا مزاج

تیری سوچیں

میری سوچوں کی عکاس ہیں

تیرے جذبے گویا کہ میرے جذبے ہیں

تیرے حرف، میرے حرفوں سے ملتے جلتے ہیں

Tuesday, 15 June 2021

خواب ڈستے رہے بکھرتے رہے

 خواب ڈستے رہے بکھرتے رہے

کرب کے لمحے یوں گزرتے رہے

کھو گئے یار ہمسفر بچھڑے

دل میں دکھ ہجر کے اترتے رہے

ہے یہی ایک زیست کا درماں

اشک آنکھوں کے دل میں گرتے رہے

Monday, 14 June 2021

یہ آنکھ نم تھی زباں پر مگر سوال نہ تھا

 یہ آنکھ نم تھی زباں پر مگر سوال نہ تھا

ہم اپنی ذات میں گم تھے کوئی خیال نہ تھا

سجا لیا ہے ہتھیلی پہ ہم نے اس کا نام

اس لیے تو بچھڑ جانے کا ملال نہ تھا

اگرچہ معتبر ٹھہرے تھے ہم زمانے میں

ہمارے پاس تو ایسا کوئی کمال نہ تھا

Sunday, 13 June 2021

کاغذ پہ تیرا نقش اتارا نہیں گیا

 کاغذ پہ تیرا نقش اتارا نہیں گیا

مجھ سے کوئی خواب سنوارا نہیں گیا

مِل کے لگا کے آج زمانے ٹھہر گئے

تجھ سے بچھڑ کے وقت گزارا نہیں گیا

طوفان میں بھی ڈوب نہ پائی میری انا

ڈوبا مگر کسی کو پکارا نہیں گیا

دکھ بچھڑنے کا نہیں ہوتا بلکہ

 دکھ

بچھڑنے کا نہیں ہوتا

بلکہ

ان رشتوں کے ٹوٹنے کا ہوتا ہے

جو

برسوں کی رفاقت کے بعد