عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
میں کیا مثال دوں کوئی تِری مثال کے بعد
نہیں جمال کوئی بھی تِرے جمال کے بعد
عطا ہوئی وہ بلندی مِرے تخیل کو
خیال ہیچ ہوئے سب تِرے خیال کے بعد
یہ تیرے نام کا صدقہ ہے صاحب معراج
عروج مجھ کو ملا ہے جو ہر زوال کے بعد
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
میں کیا مثال دوں کوئی تِری مثال کے بعد
نہیں جمال کوئی بھی تِرے جمال کے بعد
عطا ہوئی وہ بلندی مِرے تخیل کو
خیال ہیچ ہوئے سب تِرے خیال کے بعد
یہ تیرے نام کا صدقہ ہے صاحب معراج
عروج مجھ کو ملا ہے جو ہر زوال کے بعد
جو بھی حق پر ہو وہی دارورسن تک پہنچے
آدمی آج کا یوں رسمِ کہن تک پہنچے
بات ہو گُل کی جہاں اس کے لبوں تک آئے
ذکر جب سرو کا ہو اس کے بدن تک پہنچے
میں نے ٹھانی ہے حفاظت میں کروں گی اس کی
ہو جو ہمت تو خزاں میرے چمن تک پہنچے
خواب کا رستہ تکتے تکتے غزل ہوئی ہے
نیند میں آنکھیں ملتے ملتے غزل ہوئی ہے
سُونی چھت پر تنہا بیٹھے بیٹھے اکثر
تم سے باتیں کرتے کرتے غزل ہوئی ہے
تم کو دیکھا تو دل اتنا زور سے دھڑکا
ہاتھ کو دل پر دھرتے دھرتے غزل ہوئی ہے
تجھے دوست کہوں کہ اپنا ہی کوئی عکس؟
میرے مزاج سے ملتا ہے
کتنا تیرا مزاج
تیری سوچیں
میری سوچوں کی عکاس ہیں
تیرے جذبے گویا کہ میرے جذبے ہیں
تیرے حرف، میرے حرفوں سے ملتے جلتے ہیں
خواب ڈستے رہے بکھرتے رہے
کرب کے لمحے یوں گزرتے رہے
کھو گئے یار ہمسفر بچھڑے
دل میں دکھ ہجر کے اترتے رہے
ہے یہی ایک زیست کا درماں
اشک آنکھوں کے دل میں گرتے رہے
یہ آنکھ نم تھی زباں پر مگر سوال نہ تھا
ہم اپنی ذات میں گم تھے کوئی خیال نہ تھا
سجا لیا ہے ہتھیلی پہ ہم نے اس کا نام
اس لیے تو بچھڑ جانے کا ملال نہ تھا
اگرچہ معتبر ٹھہرے تھے ہم زمانے میں
ہمارے پاس تو ایسا کوئی کمال نہ تھا
کاغذ پہ تیرا نقش اتارا نہیں گیا
مجھ سے کوئی خواب سنوارا نہیں گیا
مِل کے لگا کے آج زمانے ٹھہر گئے
تجھ سے بچھڑ کے وقت گزارا نہیں گیا
طوفان میں بھی ڈوب نہ پائی میری انا
ڈوبا مگر کسی کو پکارا نہیں گیا
دکھ
بچھڑنے کا نہیں ہوتا
بلکہ
ان رشتوں کے ٹوٹنے کا ہوتا ہے
جو
برسوں کی رفاقت کے بعد