خواب کا رستہ تکتے تکتے غزل ہوئی ہے
نیند میں آنکھیں ملتے ملتے غزل ہوئی ہے
سُونی چھت پر تنہا بیٹھے بیٹھے اکثر
تم سے باتیں کرتے کرتے غزل ہوئی ہے
تم کو دیکھا تو دل اتنا زور سے دھڑکا
ہاتھ کو دل پر دھرتے دھرتے غزل ہوئی ہے
تم بن ساون کی بارش میں یوں بھیگی ہوں
ٹھنڈی آگ میں جلتے جلتے غزل ہوئی ہے
یاد کی پگڈنڈی پر تیرا ہاتھ پکڑ کے
تیرے پیچھے چلتے چلتے غزل ہوئی ہے
آج یہ کیسی شوخ نظر سے تم نے دیکھا
آنچل سر پر کرتے کرتے غزل ہوئی ہے
ہاتھ سے اپنے زلفوں میں جو تم نے ٹانکا
پھول کتاب میں رکھتے رکھتے غزل ہوئی ہے
دن بھر تو مصروف رہے کارِ دنیا میں
شام کے سائے ڈھلتے ڈھلتے غزل ہوئی ہے
طاہرہ جبین
No comments:
Post a Comment