Showing posts with label نکہت بریلوی. Show all posts
Showing posts with label نکہت بریلوی. Show all posts

Saturday, 11 December 2021

رہ وفا کے ہر اک پیچ و خم کو جان لیا

 رہِ وفا کے ہر اک پیچ و خم کو جان لیا

جنوں میں دشت و بیاباں تمام چھان لیا

ہر اک مقام سے ہم سَرخرُو گزر آئے

قدم قدم پہ محبت نے امتحان لیا

گراں ہوئی تھی غمِ زندگی کی دھوپ، مگر

کسی کی یاد نے اک شامیانہ تان لیا

Thursday, 10 June 2021

اے دل سماعتوں پہ ستم کی دہائی دے

 اے دل! سماعتوں پہ ستم کی دہائی دے

اس بیکراں سکوت میں کچھ تو سنائی دے

یہ وصف بھی کمال جنوں آشنائی دے

ہر آئینے میں اک وہی صورت دکھائی دے

میں بھی تو رنگ و بُو کا تماشا کروں کبھی

قدرت مِرے چمن کو بھی جلوہ نمائی دے

Wednesday, 9 June 2021

اب اس کی یاد ستانے کو بار بار آئے

 اب اس کی یاد ستانے کو بار بار آئے

وہ زندگی جو تِرے شہر میں گزار آئے

تِری لگن نے زمانے کی خاک چھنوائی

تِری طلب میں تمام آرزوئیں ہار آئے

یہ بے بسی بھی نہیں لطفِ اختیار سے کم

خدا کرے نہ کبھی دل پہ اختیار آئے

Tuesday, 8 June 2021

سمندر پر سکوں دل کی طغیانی نہیں کوئی

 سمندر پر سکوں دل کی طغیانی نہیں کوئی

ہوا پر شور ہے لیکن پریشانی نہیں کوئی

تعجب ہے تو بس اپنی وفاداری کے جذبے پر

ہمیں اس کے بدل جانے پہ حیرانی نہیں کوئی

تسلسل خواب خوش آثار کا یوں ٹوٹ جانے پر

تأسف ہے مگر اے دل! پشیمانی نہیں کوئی

Monday, 7 June 2021

اب اہل دل ہیں کہ نایاب ہوتے جاتے ہیں

 اب اہلِ دل ہیں کہ نایاب ہوتے جاتے ہیں 

غبارِ خاطرِ احباب ہوتے جاتے ہیں 

تمہارے آنے سے کچھ اضطراب کم ہوتا 

یہ کیا کہ اور بھی بےتاب ہوتے جاتے ہیں 

سکوں مآب سمجھتے تھے جن کناروں کو 

سمٹ کے حلقۂ گرداب ہوتے جاتے ہیں

Thursday, 26 November 2020

اے موج صبا سوز مجسم اسے کہنا

 اے موج صبا! سوز مجسم اسے کہنا

ممکن ہے وہ پوچھے مرا عالم اسے کہنا

چاہا مرے حالات نے پیہم اسے کہنا

لیکن نہ ہوئی پیار کی لو کم اسے کہنا

اک ہم ہی نہیں شاکیٔ عالم اسے کہنا

اب اہل طرب کو بھی ہے یہ غم اسے کہنا