رہِ وفا کے ہر اک پیچ و خم کو جان لیا
جنوں میں دشت و بیاباں تمام چھان لیا
ہر اک مقام سے ہم سَرخرُو گزر آئے
قدم قدم پہ محبت نے امتحان لیا
گراں ہوئی تھی غمِ زندگی کی دھوپ، مگر
کسی کی یاد نے اک شامیانہ تان لیا
رہِ وفا کے ہر اک پیچ و خم کو جان لیا
جنوں میں دشت و بیاباں تمام چھان لیا
ہر اک مقام سے ہم سَرخرُو گزر آئے
قدم قدم پہ محبت نے امتحان لیا
گراں ہوئی تھی غمِ زندگی کی دھوپ، مگر
کسی کی یاد نے اک شامیانہ تان لیا
اے دل! سماعتوں پہ ستم کی دہائی دے
اس بیکراں سکوت میں کچھ تو سنائی دے
یہ وصف بھی کمال جنوں آشنائی دے
ہر آئینے میں اک وہی صورت دکھائی دے
میں بھی تو رنگ و بُو کا تماشا کروں کبھی
قدرت مِرے چمن کو بھی جلوہ نمائی دے
اب اس کی یاد ستانے کو بار بار آئے
وہ زندگی جو تِرے شہر میں گزار آئے
تِری لگن نے زمانے کی خاک چھنوائی
تِری طلب میں تمام آرزوئیں ہار آئے
یہ بے بسی بھی نہیں لطفِ اختیار سے کم
خدا کرے نہ کبھی دل پہ اختیار آئے
سمندر پر سکوں دل کی طغیانی نہیں کوئی
ہوا پر شور ہے لیکن پریشانی نہیں کوئی
تعجب ہے تو بس اپنی وفاداری کے جذبے پر
ہمیں اس کے بدل جانے پہ حیرانی نہیں کوئی
تسلسل خواب خوش آثار کا یوں ٹوٹ جانے پر
تأسف ہے مگر اے دل! پشیمانی نہیں کوئی
اب اہلِ دل ہیں کہ نایاب ہوتے جاتے ہیں
غبارِ خاطرِ احباب ہوتے جاتے ہیں
تمہارے آنے سے کچھ اضطراب کم ہوتا
یہ کیا کہ اور بھی بےتاب ہوتے جاتے ہیں
سکوں مآب سمجھتے تھے جن کناروں کو
سمٹ کے حلقۂ گرداب ہوتے جاتے ہیں
اے موج صبا! سوز مجسم اسے کہنا
ممکن ہے وہ پوچھے مرا عالم اسے کہنا
چاہا مرے حالات نے پیہم اسے کہنا
لیکن نہ ہوئی پیار کی لو کم اسے کہنا
اک ہم ہی نہیں شاکیٔ عالم اسے کہنا
اب اہل طرب کو بھی ہے یہ غم اسے کہنا