بچوں سے کھیلتے ہو
بوڑھے جو ہو چکے ہو
نظریں چُرا رہے ہو
کیا تم بھی رو چکے ہو
باہر کیا ڈھونڈتے ہو
جو گھر میں کھو چکے ہو
بچوں سے کھیلتے ہو
بوڑھے جو ہو چکے ہو
نظریں چُرا رہے ہو
کیا تم بھی رو چکے ہو
باہر کیا ڈھونڈتے ہو
جو گھر میں کھو چکے ہو
کسی کو قتل کرنا ہو چُھری کی کیا ضرورت ہے
ملاوٹ دودھ میں کر دو زہر کا کام کر دے گی
ملاوٹ سے ہی کاٹو گے دوا خانے کے چکر تم
تمہاری صحت کا پہیہ یہ ایسا جام کر دے گی
وقت سے پہلے چکھ لو گے مزہ تم موت کا ایسے
مرو گے تو بیماروں میں تمہارا نام کر دے گی
مشیروں سے جو دھوکہ کھا رہی ہوں
منسٹر اب میں ہوتی جا رہی ہوں
وزارت کا نشہ پورا نہیں ہے
میں کیوں کرسی پہ سوتی جا رہی ہوں
محبت میری کیوں بٹنے لگی ہے
میں خلقت کی کیوں ہوتی جا رہی ہوں
میرے پیارے اللہ میاں دل میرا حیران ہے
فاروق قیصر المعروف انکل سرگم اب ہم میں نہیں رہے
انا للہ و انا الیہ راجعون
میرے پیارے اللہ میاں دل میرا حیران ہے
میرے گھر میں فاقہ ہے اس کے گھر میں نان ہے
میں بھی پاکستان ہوں اور وہ بھی پاکستان ہے
فاروق قیصر المعروف انکل سرگم اب ہم میں نہیں رہے
انا للہ و انا الیہ راجعون
نقش روزگار
امیر نے جو پکڑی ہے
کیا خوبصورت لکڑی ہے
لکڑی پہ جو نقاشی ہے
غریب نے تراشی ہے