Showing posts with label فاروق قیصر. Show all posts
Showing posts with label فاروق قیصر. Show all posts

Saturday, 2 October 2021

بچوں سے کھیلتے ہو

 بچوں سے کھیلتے ہو

بوڑھے جو ہو چکے ہو

نظریں چُرا رہے ہو

کیا تم بھی رو چکے ہو

باہر کیا ڈھونڈتے ہو

جو گھر میں کھو چکے ہو

Friday, 1 October 2021

کسی کو قتل کرنا ہو چھری کی کیا ضرورت ہے

 کسی کو قتل کرنا ہو چُھری کی کیا ضرورت ہے

ملاوٹ دودھ میں کر دو زہر کا کام کر دے گی

ملاوٹ سے ہی کاٹو گے دوا خانے کے چکر تم

تمہاری صحت کا پہیہ یہ ایسا جام کر دے گی

وقت سے پہلے چکھ لو گے مزہ تم موت کا ایسے

مرو گے تو بیماروں میں تمہارا نام کر دے گی

Thursday, 30 September 2021

مشیروں سے جو دھوکہ کھا رہی ہوں

 مشیروں سے جو دھوکہ کھا رہی ہوں

منسٹر اب میں ہوتی جا رہی ہوں

وزارت کا نشہ پورا نہیں ہے

میں کیوں کرسی پہ سوتی جا رہی ہوں

محبت میری کیوں بٹنے لگی ہے

میں خلقت کی کیوں ہوتی جا رہی ہوں

Friday, 14 May 2021

میرے پیارے اللہ میاں دل میرا حیران ہے

 میرے پیارے اللہ میاں دل میرا حیران ہے

فاروق قیصر المعروف انکل سرگم اب ہم میں نہیں رہے

انا للہ و انا الیہ راجعون


 میرے پیارے اللہ میاں دل میرا حیران ہے

میرے گھر میں فاقہ ہے اس کے گھر میں نان ہے

میں بھی پاکستان ہوں اور وہ بھی پاکستان ہے

امیر کی یہ سوٹی ہے​ غریب کی یہ روٹی ہے

 فاروق قیصر المعروف انکل سرگم اب ہم میں نہیں رہے

انا للہ و انا الیہ راجعون


نقش روزگار

امیر نے جو پکڑی ہے​

کیا خوبصورت لکڑی ہے​

لکڑی پہ جو نقاشی ہے​

غریب نے تراشی ہے