Showing posts with label ابوبکر نادر. Show all posts
Showing posts with label ابوبکر نادر. Show all posts

Tuesday, 30 July 2024

علی کے چاہنے والوں کے دل کالے نہیں ہوتے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


علیؑ کے چاہنے والوں کے دل کالے نہیں ہوتے

جہاں نورِ ولایت ہو وہاں تالے نہیں ہوتے

علیؑ زادوں نے بتلایا تحفظ کر کے عثماںؓ کا

جو رکھیں بُغض عثماںؓ سے علیؑ والے نہیں ہوتے

سرِ غار آپؐ کے دشمن ہوئے خود سے مخاطب یوں

اگر ہوتے یہیں دونوں تو یہ جالے نہیں ہوتے

Thursday, 27 June 2024

ہم کو محبوب ہے ہر ایک ادا آقا کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہم کو محبوب ہے ہر ایک ادا آقاؐ کی

ایسے ہوتی ہے دیوانوں پہ عطا آقا کی

تیری توفیق سے لیتے ہیں تِرا نام خدا

تیری توفيق سے کرتے ہیں ثنا آقا کی

ناز پھر کیوں نہ کریں ہم کہ عمرؓ والے ہیں

جس کو اسلام میں لائی ہے دعا آقا کی

Monday, 24 June 2024

عطائے باب حرم سے مزاج ملتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عطائے بابِ حرم سے مزاج ملتا ہے

علیؑ کا شاہِ اممﷺ سے مزاج ملتا ہے

بہت کریم ہے ہر فرد اس گھرانے کا

کرم خدا کا، کرم سے مزاج ملتا ہے

علیؑ نے بیعتِ صدیقؓ کر کے بتلایا

علیؑ کا حق کے عَلَم سے مزاج ملتا ہے

Sunday, 23 June 2024

دین کے دشمن پہ تیرا دبدبہ ہے آج بھی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دین کے دشمن پہ تیرا دبدبہ ہے آج بھی

کفر تیرا نام سن کر کانپتا ہے آج بھی

آج بھی ہے غرق، مسلم چاہتِ فاروقؓ میں

اہلِ ایماں کے لبوں پر تذکره ہے آج بھی

ناز کرتا ہے زمانہ اب بھی تیرے نام پر

تُو دعائے مصطفیٰؐ ہے مانتا ہے آج بھی

Saturday, 22 June 2024

جہاں دل میں مدینہ ہو وہاں غم آ نہیں سکتا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہمارے اِس عقیدے کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا

جہاں دل میں مدینہ ہو وہاں غم آ نہیں سکتا

مِرے گُل پوش آقاؐ کی محبت نے بتایا ہے

عقیدت پُھول ہے ایسا کہ جو مُرجھا نہیں سکتا

مرا ایمان کہتا ہے یہ اُنؐ کے در کی عظمت ہے

سوالی کوئی بھی چوکھٹ سے خالی جا نہیں سکتا

Friday, 21 June 2024

دیے تیری یادوں کے دل میں جلا کر

 دیے تیری یادوں کے دل میں جلا کر 

کئی بار دیکھا ہے آنسو بہا کر 

میں اوروں کو بھی یہ نصیحت کروں گا 

چلیں حُسن والوں سے دامن بچا کر 

وہ جس کے بِنا پل گزرتا نہیں تھا 

اُسے بھی تو دیکھا ہے ہم گنوا کر