Showing posts with label فرزانہ ناز. Show all posts
Showing posts with label فرزانہ ناز. Show all posts

Friday, 16 July 2021

ابھی آنسوؤں کو نہ روکیے

 ابھی آنسوؤں کو نہ روکیے

کوئی گیت درد کا چھیڑئیے

ابھی غم کی رات طویل ہے

یہ چراغ دل نہ بجھائیے

اک پل میں ہو گا یہ فیصلہ

یہاں کس نے کس کو دغا دیا

Thursday, 27 May 2021

اب گلہ نہیں کرنا

 اب گِلہ نہیں کرنا


اب کے ہم نے سوچا ہے

جس نے بھی رُلایا ہو

لاکھ دل دُکھایا ہو

مُسکرا کے ملنا ہے

اب کسی اُمید کا

Tuesday, 25 May 2021

نیند آتی نہیں خواب کے خوف سے

 خوف 


نیند آتی نہیں خواب کے خوف سے

خواب دیکھا تو پھر

آس لگ جائے گی

آس ٹوٹی تو آنکھوں میں

چُبھتی ہوئی کرچیاں

Sunday, 25 April 2021

چلی ہے یہ کیسی ہوا خوب صورت

 چلی ہے یہ کیسی ہوا خوبصورت

کہ دل کا یہ موسم ہوا خوبصورت

یہ دنیا بنائی ہے کیا خوبصورت

کہ خود ہو گا کتنا خدا خوبصورت

گھڑی دو گھڑی ہی جلا ہے دِیا

ہاں لیکن جلا ہے دِیا خوبصورت

Tuesday, 13 April 2021

ہم بیٹھے ہیں آس لگائے

 ہم بیٹھے ہیں آس لگائے

اس کی مرضی آئے نہ آئے

کیسا خواب اور نیند کہاں کی

مدت ہو گئی آنکھ لگائے

میرا پتا نہ دینا اس کو

وہ جب مجھ کو ڈھونڈنے آئے

Monday, 12 April 2021

مٹ رہا ہے نشاں کیوں نہیں بولتے

 مٹ رہا ہے نشاں کیوں نہیں بولتے 

جا رہی ہے یہ جاں کیوں نہیں بولتے

مٹ رہا ہے نشاں کیوں نہیں بولتے 

رہبرِ کارواں، کیوں نہیں بولتے

جل گئیں بستیاں، آگ بجھ بھی گئی

اٹھ رہا دھواں، کیوں نہیں بولتے

گریز؛ کس قدر عجیب ہے

 گریز


کس قدر عجیب ہے

دیکھتا نہیں مجھ کو

بولتا نہیں مجھ سے

میں جو بات کرتی ہوں

ان سنی سی کرتا ہے

دور دور رہتا ہے

Sunday, 11 April 2021

تم بھی عام لڑکی ہو

 عام لڑکی


وہ میرے ساتھ چلنا چاہتا تھا

اسے منزل سے دلچسپی نہ تھی

وہ میرے دل کے

صحرائے محبت میں

سیاح بن کر