ابھی آنسوؤں کو نہ روکیے
کوئی گیت درد کا چھیڑئیے
ابھی غم کی رات طویل ہے
یہ چراغ دل نہ بجھائیے
اک پل میں ہو گا یہ فیصلہ
یہاں کس نے کس کو دغا دیا
ابھی آنسوؤں کو نہ روکیے
کوئی گیت درد کا چھیڑئیے
ابھی غم کی رات طویل ہے
یہ چراغ دل نہ بجھائیے
اک پل میں ہو گا یہ فیصلہ
یہاں کس نے کس کو دغا دیا
اب گِلہ نہیں کرنا
اب کے ہم نے سوچا ہے
جس نے بھی رُلایا ہو
لاکھ دل دُکھایا ہو
مُسکرا کے ملنا ہے
اب کسی اُمید کا
خوف
نیند آتی نہیں خواب کے خوف سے
خواب دیکھا تو پھر
آس لگ جائے گی
آس ٹوٹی تو آنکھوں میں
چُبھتی ہوئی کرچیاں
چلی ہے یہ کیسی ہوا خوبصورت
کہ دل کا یہ موسم ہوا خوبصورت
یہ دنیا بنائی ہے کیا خوبصورت
کہ خود ہو گا کتنا خدا خوبصورت
گھڑی دو گھڑی ہی جلا ہے دِیا
ہاں لیکن جلا ہے دِیا خوبصورت
ہم بیٹھے ہیں آس لگائے
اس کی مرضی آئے نہ آئے
کیسا خواب اور نیند کہاں کی
مدت ہو گئی آنکھ لگائے
میرا پتا نہ دینا اس کو
وہ جب مجھ کو ڈھونڈنے آئے
مٹ رہا ہے نشاں کیوں نہیں بولتے
جا رہی ہے یہ جاں کیوں نہیں بولتے
مٹ رہا ہے نشاں کیوں نہیں بولتے
رہبرِ کارواں، کیوں نہیں بولتے
جل گئیں بستیاں، آگ بجھ بھی گئی
اٹھ رہا دھواں، کیوں نہیں بولتے
گریز
کس قدر عجیب ہے
دیکھتا نہیں مجھ کو
بولتا نہیں مجھ سے
میں جو بات کرتی ہوں
ان سنی سی کرتا ہے
دور دور رہتا ہے
عام لڑکی
وہ میرے ساتھ چلنا چاہتا تھا
اسے منزل سے دلچسپی نہ تھی
وہ میرے دل کے
صحرائے محبت میں
سیاح بن کر