Tuesday, 13 April 2021

ہم بیٹھے ہیں آس لگائے

 ہم بیٹھے ہیں آس لگائے

اس کی مرضی آئے نہ آئے

کیسا خواب اور نیند کہاں کی

مدت ہو گئی آنکھ لگائے

میرا پتا نہ دینا اس کو

وہ جب مجھ کو ڈھونڈنے آئے

جس رستے بھی جائیں محبت

راہ میں بیٹھی گھات لگائے

کون بھلا آزمائے کسی کو

کون بھلا اب دیا بجھائے

خوشیاں پل دو پل کی ساتھی

غم ہی ہمیشہ ساتھ نبھائے


فرزانہ ناز

No comments:

Post a Comment