Tuesday, 13 April 2021

ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں

 ایسا نہیں کہ منہ میں ہمارے زباں نہیں

ہیں کم سخن ضرور پہ عاجز بیاں نہیں

ہر چند جانتے ہیں اسے ہم قریب سے

پر کیا کریں کہ پائے سخن درمیاں نہیں

اچھا تو ایک پل کےلیے ہی اٹھا کےدیکھ

اے آسماں! جو بارِ امانت گراں نہیں

خود ہم میں تابِ دید نہیں ہے یہ اور بات

رہتا ہے وہ نگاہ کے آگے کہاں نہیں

فرخ کہیں نہ سُن کے کرے وہ بھی ان سُنی

کہتے ہیں اس سے اس لیے دردِ نہاں نہیں


فرخ جعفری

No comments:

Post a Comment