Tuesday, 13 April 2021

بڑھنے دے ابھی کشمکش تار نفس اور

 بڑھنے دے ابھی کشمکشِ تارِ نفس اور

اے گوش بر آواز ذرا دیر ترس اور

ہم مائلِ پرواز رہے جتنی لگن سے

اٹھتی ہی گئی اتنی ہی دیوارِ قفس اور

یہ آتشِ شوق اور یہ دو چار پھواریں

اے ابرِ سیہ مست ذرا کھُل کے برس اور

اک قافلۂ زیست بچھڑ جائے تو کیا غم

آتی ہے بہت دُور سے آوازِ جرس اور

فردا میں بہاروں کے نشاں ڈھونڈنے والو

کیا ہو گا زمانے کا چلن اب کے برس اور

ہم نے جو تمنائی بیابانِ طلب میں

اک عمر گزاری ہے تو دو چار برس اور


عزیز تمنائی

No comments:

Post a Comment