Showing posts with label شاہین ڈیروی. Show all posts
Showing posts with label شاہین ڈیروی. Show all posts

Saturday, 22 May 2021

یہ کیا ضد ہے کہ میں آنکھوں سے اب چشمہ اتاروں تو ملو گے تم

 یہ کیا ضد ہے

یہ کیا ضد ہے کہ میں

آنکھوں سے اب چشمہ

اتاروں تو  ملو گے تم

یہ کیا ضد ہے کہ میں اب

روح کے زخموں کا اک میلہ

Sunday, 30 August 2020

عجب اک معرکہ تها وہ

عجب اک، معرکہ
تها وہ
کہ جس میں
منحنی، دبلے
بہت موٹے سے
اور کچھ کچھ
لموچڑ، تهوتهنی والے

سرد لہر چپکے سے

سرد لہر چپکے سے
خون میں اتر آئی
گونجتے سنی دل نے
چار سو جو عالم میں
زرد زرد تنہائی
جسم، چیتھڑا، میلا

نہیں مکرنا وہ میرا رب تھا

نہیں مُکرنا وہ میرا رب تھا
بہت عجب تھا
کہ درد لمحوں میں
ساتھ رہتا، نہ تھل کی وحشی
سلگتی دھوپوں میں
سائبانی کا حق نبھاتا

کشتی والو رکو

کشتی والو رکو
سیپیاں مونگهے موتی
وہیں رہ گئے
میری چنری کی رنگت
سیہ پڑ گئی
میں نے کشتی کهیوئیے کو آواز
دی

Friday, 28 August 2020

طوائف male

طوائف male 

چهوٹی چهوٹی شاطر آنکهیں
ہونٹوں پر مسکان
اک سانول، سلطان
بهرپور، قوی، مضبوط ہے سین
جیسے کڑی کمان
ہر ناری کی جان

تیرا جب ذکر تیری بات ہو گی

تیرا جب ذکر، تیری بات ہو گی
تو رنگ و نور کی، برسات ہو گی
یہی گر تلخئ حالات ہو گی
تو پھر کیا خاک ان سے بات ہو گی
غضب کی پیاس ہونٹوں پر جمی ہے
تِرے آنگن میں تو برسات ہو گی

اماں جانی تو کیا جانے

اماں جانی

اماں جانی
تُو کیا جانے
تیرے بعد، مرے گالوں پر
کس کس نے تھپڑ مارے ہیں
کس نے پھر، میرے ماتھے پر
اندھی رات کا تلک اُتارا

زہر ٹپکاتی عورت

پستانوں سے زہر ٹپکاتی عورت

یہ عورت ہے، جس کو
محبت کے کوڑے سے
چهیلا گیا ہے
یہ عورت ہے، جس کی
جوانی پہ شبخون مارا تها، اس نے
وہی جس کو اونچے پہاڑوں کی
گهاٹی میں ریشم کے رسوں نے
باندها ہوا تها

Monday, 4 December 2017

اللہ سائیں کیا تو ایسا کر سکتا ہے

اللہ سائیں

اللہ سائیں 
کیا تُو ایسا، کر سکتا ہے
یخ بستہ اک رات کے، پچهلے پہر
بڑی خاموشی سے
تُو نیچے آئے

وہ لمحہ

وہ لمحہ

اس لمحے سے
ڈر لگتا ہے
سچ مچ گر یہ، جابر لمحہ
میرے سر پر
ٹوٹ پڑا تو؟

اک بیٹی کی طرف سے

اک بیٹی کی طرف سے

میرے باپ نے 
میرا درد سہا دل پر
وہ بهی ہر دم بیٹیوں کے
دکھ دیکهے گا
قدرت کا قانون ہے
گر تم، سمجھ سکو