Saturday, 22 May 2021

یہ کیا ضد ہے کہ میں آنکھوں سے اب چشمہ اتاروں تو ملو گے تم

 یہ کیا ضد ہے

یہ کیا ضد ہے کہ میں

آنکھوں سے اب چشمہ

اتاروں تو  ملو گے تم

یہ کیا ضد ہے کہ میں اب

روح کے زخموں کا اک میلہ

لگا دوں سامنے تیرے

سنو! میں کیوں کروں ایسا؟

کہ تم تو ہمسفر ہو، اور نہ ہی

ہم سخن میرے

سنو! تم تو فقط

ٹولہے کا اک چھدرا شجر ہو

جس کی چھاؤں ہیں

گھڑی بھر کو رکا ہے دل

ذرا سی دیر کو دم لوں

یونہی آرام آ جائے مرے پیروں کے چھالوں کو تو

چل دوں گی

سنو! عینک کے بِن میری یہ آنکھیں دیکھنے کی ضد

نہیں کرنا

کہ بن عینک کی آنکھوں کے جو غم پڑھ لو گے تم پگلے

تو رو دو گے


شاہین ڈیروی

(ڈاکٹر صابرہ شاہین)

No comments:

Post a Comment