یہ کیا ضد ہے
یہ کیا ضد ہے کہ میں
آنکھوں سے اب چشمہ
اتاروں تو ملو گے تم
یہ کیا ضد ہے کہ میں اب
روح کے زخموں کا اک میلہ
لگا دوں سامنے تیرے
سنو! میں کیوں کروں ایسا؟
کہ تم تو ہمسفر ہو، اور نہ ہی
ہم سخن میرے
سنو! تم تو فقط
ٹولہے کا اک چھدرا شجر ہو
جس کی چھاؤں ہیں
گھڑی بھر کو رکا ہے دل
ذرا سی دیر کو دم لوں
یونہی آرام آ جائے مرے پیروں کے چھالوں کو تو
چل دوں گی
سنو! عینک کے بِن میری یہ آنکھیں دیکھنے کی ضد
نہیں کرنا
کہ بن عینک کی آنکھوں کے جو غم پڑھ لو گے تم پگلے
تو رو دو گے
شاہین ڈیروی
(ڈاکٹر صابرہ شاہین)
No comments:
Post a Comment