جب سے اس دل کو تِری چاہ کا ارماں نہ رہا
پاس پھر کوئی بھی تسکین کا ساماں نہ رہا
رائیگاں وصل رہا، ہجر بھی بے سود گیا
کارگر آج مسیحا! تیرا درماں نہ رہا
ایسا لگتا ہے کہ سینے میں ہیں سانسیں محصور
گردشِ وقت تھما، گردشِ دوراں نہ رہا
ختم ہو جائیں گے ہم تم جو اگر مل جائیں
یوں سمجھ لو کوئی وعدہ، کوئی پیماں نہ رہا
آج وحشت میں کسی رینگتے سائے کی طرح
جستجو اپنی ہے آدم کو کہ انساں نہ رہا
ہائے کیا وقت تھا جب تم سے گلے ملتے تھے
آج کل ہاتھ ملانے کا بھی امکاں نہ رہا
تیری شہ رگ پہ کڑا وقت پڑا ہے کیسا
زندگی آج تِرا کوئی بھی عنواں نہ رہا
رضیہ سبحان
No comments:
Post a Comment