قیدِ الفت کا مزہ زلفِ گرہ گیر میں ہے
بس یہی رنگ مِرے خواب کی تعبیر میں ہے
میٹھی میٹھی سی کسک اس کے بھی دل میں ہو گی
ہلکی ہلکی سی کھنک پاؤں کی زنجیر میں ہے
اس کو تحقیر کی نظروں سے نہ دیکھو یارو
رنگ کردار کا پنہاں مِری تصویر میں ہے
قیدِ الفت کا مزہ زلفِ گرہ گیر میں ہے
بس یہی رنگ مِرے خواب کی تعبیر میں ہے
میٹھی میٹھی سی کسک اس کے بھی دل میں ہو گی
ہلکی ہلکی سی کھنک پاؤں کی زنجیر میں ہے
اس کو تحقیر کی نظروں سے نہ دیکھو یارو
رنگ کردار کا پنہاں مِری تصویر میں ہے
کہیے کن لفظوں میں اشکوں کی کہانی لکھوں
معترض آپ لہو پر ہیں تو پانی لکھوں
ان کو اپنا سا لگے، اور ہو قصہ میرا
دل کی خواہش ہے کہ اک ایسی کہانی لکھوں
داغ جتنے بھی ہیں گلزارِ تمنا میں میرے
پھول کی طرح انہیں تیری نشانی لکھوں
کیا سرِ تحریر ہے؟ اور کیا پسِ تحریر دیکھ؟
یعنی ہر اک تخریب کے پردے میں اک تصویر دیکھ
تھی ہر اک تخریب کے پردے میں اک تعمیر دیکھ
غور سے ماضی میں اپنے حال کی تصویر دیکھ
کون پابنِ وفا ہے؟۔ کون ہے ننگِ وفا؟
شمع کی آغوش میں پروانے کی تقدیر دیکھ
خونِ تمنّا رنگ لایا ہو، ایسا بھی ہو سکتا ہے
تنہائی میں وہ رویا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
سب کے چہرے پر چہرہ تھا میں کس کو اپنا کہتا
کوئی مجھے بھی ڈھونڈ رہا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
جس نے میرا گھر لُٹنے میں چوروں کی اگوائی کی
وہ میرا ہی ہمسایہ ہو،۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے
چپ رہوں کیسے میں برباد جہاں ہونے تک
راز کو راز ہی رکھنا ہے بیاں ہونے تک
کیا خبر تھی تِری محفل میں یہ حالت ہوگی
تُو اٹھا دے گا مجھے درد عیاں ہونے تک
خوش نصیبی یہ مِری ہے کہ وہ گھر آئے ہیں
شمع تُو ساتھ نبھا وقتِ اذاں ہونے تک