Showing posts with label یونس غازی. Show all posts
Showing posts with label یونس غازی. Show all posts

Thursday, 8 September 2022

قید الفت کا مزہ زلف گرہ گیر میں ہے

 قیدِ الفت کا مزہ زلفِ گرہ گیر میں ہے

بس یہی رنگ مِرے خواب کی تعبیر میں ہے

میٹھی میٹھی سی کسک اس کے بھی دل میں ہو گی

ہلکی ہلکی سی کھنک پاؤں کی زنجیر میں ہے

اس کو تحقیر کی نظروں سے نہ دیکھو یارو

رنگ کردار کا پنہاں مِری تصویر میں ہے

Saturday, 27 August 2022

کہیے کن لفظوں میں اشکوں کی کہانی لکھوں

 کہیے کن لفظوں میں اشکوں کی کہانی لکھوں

معترض آپ لہو پر ہیں تو پانی لکھوں

ان کو اپنا سا لگے، اور ہو قصہ میرا

دل کی خواہش ہے کہ اک ایسی کہانی لکھوں

داغ جتنے بھی ہیں گلزارِ تمنا میں میرے

پھول کی طرح انہیں تیری نشانی لکھوں

Monday, 22 August 2022

کیا سر تحریر ہے اور کیا پس تحریر دیکھ

 کیا سرِ تحریر ہے؟ اور کیا پسِ تحریر دیکھ؟

یعنی ہر اک تخریب کے پردے میں اک تصویر دیکھ

تھی ہر اک تخریب کے پردے میں اک تعمیر دیکھ

غور سے ماضی میں اپنے حال کی تصویر دیکھ

کون پابنِ وفا ہے؟۔ کون ہے ننگِ وفا؟

شمع کی آغوش میں پروانے کی تقدیر دیکھ

Friday, 19 August 2022

خون تمنا رنگ لایا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

 خونِ تمنّا رنگ لایا ہو، ایسا بھی ہو سکتا ہے

تنہائی میں وہ رویا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

سب کے چہرے پر چہرہ تھا میں کس کو اپنا کہتا

کوئی مجھے بھی ڈھونڈ رہا ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

جس نے میرا گھر لُٹنے میں چوروں کی اگوائی کی

وہ میرا ہی ہمسایہ ہو،۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے

Tuesday, 27 July 2021

چپ رہوں کیسے میں برباد جہاں ہونے تک

 چپ رہوں کیسے میں برباد جہاں ہونے تک

راز کو راز ہی رکھنا ہے بیاں ہونے تک

کیا خبر تھی تِری محفل میں یہ حالت ہوگی

تُو اٹھا دے گا مجھے درد عیاں ہونے تک

خوش نصیبی یہ مِری ہے کہ وہ گھر آئے ہیں

شمع تُو ساتھ نبھا وقتِ اذاں ہونے تک