Showing posts with label رعنا حسین. Show all posts
Showing posts with label رعنا حسین. Show all posts

Thursday, 31 March 2022

ڈر لگتا ہے مجھے ان لوگوں سے

 دماغ


ڈر لگتا ہے

مجھے

ان لوگوں سے

جن کے دل میں بھی

دماغ ہوتا ہے


رعنا حسین چندا

Wednesday, 30 March 2022

Tuesday, 29 March 2022

ہونٹوں پہ اگرچہ مرے مسکان سجی ہے

 ہونٹوں پہ اگرچہ مِرے مسکان سجی ہے

اب بھی مِری پلکوں پہ تو ہلکی سی نمی ہے

آ کر کوئی بیٹھا ہے خیالوں میں جو اس دم

آنکھوں کی یہ برسات ذرا دیر رکی ہے

میں خود ہوں کہیں اور دلِ غم دیدہ کہیں اور

جذبات میں احساس میں اک برف جمی ہے

Monday, 28 March 2022

تم گھٹا سمجھے تھے جس کو وہ کوئی بادل نہ تھا

 تم گھٹا سمجھے تھے جس کو وہ کوئی بادل نہ تھا

تھا کلیجے کا لہو وہ آنکھ کا کاجل نہ تھا

فاصلے کیوں ہو گئے اتنی ملاقاتوں کے بعد

دو قدم ہی ساتھ چلنا اتنا تو مشکل نہ تھا

رات دن کی داستاں مجھ سے اے تنہائی نہ پوچھ

دل کبھی بھی اس کی یادوں سے مگر غافل نہ تھا

Sunday, 27 March 2022

مانا کہ ابھی ربط نہ رشتہ نہ مہر ہے

 مانا کہ ابھی ربط نہ رشتہ نہ مہر ہے

پھر بھی تمہیں ہم سے ہی محبت تو مگر ہے

چھلکا مِری آنکھوں سے غمِ دیدہ کئی بار

یعنی کہ مِری اب کے اجڑنے کی خبر ہے

برسوں جو لکھوں ختم نہ ہو غم کی کہانی

قسمت میں لکھا اتنا مِرے زیرو زبر ہے

ہر بار رفو کرتی ہوں میں چاک گریباں

Monday, 15 February 2021

لگتی ہے چار سو مجھے پھیلی ہوائے گل

 لگتی ہے چار سُو مجھے پھیلی ہوائے گُل

راہوں میں کوئی بیٹھا ہے شاید سجائے گل

دیکھا جو اس نے پیار سے آنکھوں میں جھانک کر

کتنے سِمٹ کے آئے تھے چہرے پہ ہائے گل

دل ہم سے کر رہا ہے یہ جب سے شگفتگی

شانوں پہ ڈال رکھی ہے تب سے ردائے گل