دماغ
ڈر لگتا ہے
مجھے
ان لوگوں سے
جن کے دل میں بھی
دماغ ہوتا ہے
رعنا حسین چندا
دماغ
ڈر لگتا ہے
مجھے
ان لوگوں سے
جن کے دل میں بھی
دماغ ہوتا ہے
رعنا حسین چندا
بے کلی
آج کل
میں ہر طرح
برت رہی ہوں
زندگی کو
ہنس کر
ہونٹوں پہ اگرچہ مِرے مسکان سجی ہے
اب بھی مِری پلکوں پہ تو ہلکی سی نمی ہے
آ کر کوئی بیٹھا ہے خیالوں میں جو اس دم
آنکھوں کی یہ برسات ذرا دیر رکی ہے
میں خود ہوں کہیں اور دلِ غم دیدہ کہیں اور
جذبات میں احساس میں اک برف جمی ہے
تم گھٹا سمجھے تھے جس کو وہ کوئی بادل نہ تھا
تھا کلیجے کا لہو وہ آنکھ کا کاجل نہ تھا
فاصلے کیوں ہو گئے اتنی ملاقاتوں کے بعد
دو قدم ہی ساتھ چلنا اتنا تو مشکل نہ تھا
رات دن کی داستاں مجھ سے اے تنہائی نہ پوچھ
دل کبھی بھی اس کی یادوں سے مگر غافل نہ تھا
مانا کہ ابھی ربط نہ رشتہ نہ مہر ہے
پھر بھی تمہیں ہم سے ہی محبت تو مگر ہے
چھلکا مِری آنکھوں سے غمِ دیدہ کئی بار
یعنی کہ مِری اب کے اجڑنے کی خبر ہے
برسوں جو لکھوں ختم نہ ہو غم کی کہانی
قسمت میں لکھا اتنا مِرے زیرو زبر ہے
ہر بار رفو کرتی ہوں میں چاک گریباں
لگتی ہے چار سُو مجھے پھیلی ہوائے گُل
راہوں میں کوئی بیٹھا ہے شاید سجائے گل
دیکھا جو اس نے پیار سے آنکھوں میں جھانک کر
کتنے سِمٹ کے آئے تھے چہرے پہ ہائے گل
دل ہم سے کر رہا ہے یہ جب سے شگفتگی
شانوں پہ ڈال رکھی ہے تب سے ردائے گل