Monday, 7 September 2026

چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئی

 چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئی

ہمارے گلستاں سے رنگ سارا لے گیا کوئی

ہمیں جو راہ دکھلاتا تھا جیون کے اندھیروں میں

ہمارے آسماں سے وہ ستارہ لے گیا کوئی

بہت ویران رہتا ہے فلک آنکھوں کا یہ جب سے

چرا کر اس سے اس کا ماہ پارہ لے گیا کوئی

بھلا اب زندگی میں دیکھنے کو کیا رہا باقی

جو بھاتا تھا ہمیں وہ ہر نظارہ لے گیا کوئی

لگے گی پار کیسے ناؤ اب یہ خدا جانے

اسے منجدھار میں رکھ کر کنارہ لے گیا کوئی

بدل دیتا تھا جو مینڈک کو اک راجہ کی صورت میں

جہاں سے اب وہ جادو کا پٹارا لے گیا کوئی

دل بیتاب کو مدھومن قرار آئے بھی تو کیسے

سکوں تو چھین کر ہم سے ہمارا لے گیا کوئی


مدھو مدھومن

No comments:

Post a Comment