چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئی
ہمارے گلستاں سے رنگ سارا لے گیا کوئی
ہمیں جو راہ دکھلاتا تھا جیون کے اندھیروں میں
ہمارے آسماں سے وہ ستارہ لے گیا کوئی
بہت ویران رہتا ہے فلک آنکھوں کا یہ جب سے
چرا کر اس سے اس کا ماہ پارہ لے گیا کوئی
بھلا اب زندگی میں دیکھنے کو کیا رہا باقی
جو بھاتا تھا ہمیں وہ ہر نظارہ لے گیا کوئی
لگے گی پار کیسے ناؤ اب یہ خدا جانے
اسے منجدھار میں رکھ کر کنارہ لے گیا کوئی
بدل دیتا تھا جو مینڈک کو اک راجہ کی صورت میں
جہاں سے اب وہ جادو کا پٹارا لے گیا کوئی
دل بیتاب کو مدھومن قرار آئے بھی تو کیسے
سکوں تو چھین کر ہم سے ہمارا لے گیا کوئی
مدھو مدھومن
No comments:
Post a Comment