Showing posts with label رحمان حفیظ. Show all posts
Showing posts with label رحمان حفیظ. Show all posts

Tuesday, 6 December 2022

سائے کے حق میں کچھ نہیں میرے بیان میں

 سائے کے حق میں کچھ نہیں میرے بیان میں

جو آپ چھپتا پھرتا ہے ہر سائبان میں

یہ چھوٹے چھوٹے شوق بھی اس کو روا نہیں

جس کو بڑا بنایا گیا خاندان میں

مجھ کو ہے آدمی سے توقع خلوص کی

سونا تلاش کرتا ہوں مٹی کی کان میں

Thursday, 22 April 2021

عکس ابھرا نہیں آئینہ دلداری کا

 عکس ابھرا نہیں آئینہ دلداری کا

ہجر نے کھینچ لیا دائرہ زنگاری کا

ناز کرتا تھا طوالت پہ کہ وقت رخصت

بھید سائے پہ کھلا شام کی عیاری کا

جس قدر خرچ کئے سانس ہوئی ارزانی

نرخ گرتا گیا رسم و رہِ بازاری کا

Friday, 16 August 2019

پھر جو کٹتی نہیں اس رات سے خوف آتا ہے

پھر جو کٹتی نہیں اس رات سے خوف آتا ہے
سو ہمیں شامِ ملاقات سے خوف آتا ہے
ماند پڑتے ہوئے جذبات سے خوف آتا ہے
عمرِ آخر کی شروعات سے خوف آتا ہے
پھونکتا جاتا ہے یہ شعلۂ تخلیق مجھے
اب تو اپنے ہی کمالات سے خوف آتا ہے

ہمارے حق میں کسی کے جفر رمل کوئی نئیں

ہمارے حق میں کسی کے جفر، رمل کوئی نئیں
جو اہلِ دل کے مسائل ہیں، ان کا حل کوئی نئیں
عجیب شہر میں میرا جنم ہوا ہے جہاں 
بدی کا حل کوئی نئیں، نیکیوں کا پھل کوئی نئیں
مِرے لیے نہ رکے کوئی موجِ استقبال
میں رزقِ لمحۂ حاضر ہوں، میرا کل کوئی نئیں

جس میں ہو پائیں گرفتار وہ پل ڈھونڈتے ہیں

جس میں ہو پائیں گرفتار وہ پَل ڈھونڈتے ہیں
آج تک ہم تِری آنکھوں کا بدل ڈھونڈتے ہیں
عہدِ بارود! کچھ احساس مِرے بچوں کا
کیاریاں سِینچتے پھرتے ہیں، کنول ڈھونڈتے ہیں
فلسفوں نے تو کہیں کا نہیں چھوڑا ہم کو
اب کوئی مختلف اندازِ عمل ڈھونڈتے ہیں

Thursday, 20 October 2016

بندہ قرار دے کے ڈرانے لگے مجھے

بندہ قرار دے کے ڈرانے لگے مجھے
میرے بناۓ بُت ہی بنانے لگے مجھے
کیسا نیا خیال مِرے ذہن میں جگا
یکدم تمام لفظ پرانے لگے مجھے
کس منہ سے اب پروں کی تمنا کِیا کروں 
میرے تخیلات اڑانے لگے مجھے

حسن ایسا کہ جو سب کو نظر آنے کا نہیں

حسن ایسا کہ جو سب کو نظر آنے کا نہیں
عشق اتنا کہ مِرے دل میں سمانے کا نہیں
بات ہے اور زباں پر نہیں لانے والی
راز ہے اور کسی سے بھی چھپانے کا نہیں
جی میں آتی ہے کہ لَے اور اٹھاتا جاؤں
اور یہ گیت کسی کو بھی سنانے کا نہیں

Friday, 16 September 2016

گر کسی چشم گہر بیں سے شناسا ہوتا

گر کسی چشمِ گہر بِیں سے شناسا ہوتا
میں وہ سِکہ تھا کہ ہر ملک میں چلتا ہوتا
شاخِ دل اب بھی لچکتی ہے اسی حسرت میں
کاش اِس پر بھی پرندہ کوئی بیٹھا ہوتا 
موجۂ بادِ خبر! گرم مزاجی اتنی
تُو جو صحراؤں میں ہوتا تو بگولہ ہوتا

مدتوں میں بہم ہوئے ماضی و حال دیر تک

مدتوں میں بہم ہوئے ماضی و حال دیر تک
ذہن میں پر فشاں رہی ، گردِ ملال دیر تک
رہ نہیں پائے گی یہی صورتِ حال دیر تک
کس کا کمال دیر تک، کس کا زوال دیر تک 
تیغ بکف سوار تو گرد اڑا کے چل دئیے 
کانپتا رہ گیا وہاں ایک نہال دیر تک

Friday, 13 May 2016

اڑاتے آئے ہو کیا اپنے خواب زار کی خاک

اڑاتے آۓ ہو کیا اپنے خواب زار کی خاک
یہ اور خاک ہے، اک دشتِ بے کنار کی خاک
ڈرا رہے ہو سفر کی صعوبتوں سے ہمیں
تمہارے منہ میں بھی خاک اور رہگزار کی خاک
یہ میں نہیں ہوں تو پھر کس کی آمد آمد ہے
خوشی سے ناچتی پھرتی ہے رہگزار کی خاک

رنگ کا نور کا بو باس کا دھوکا ہی نہ ہو

رنگ کا، نور کا، بو باس کا دھوکا ہی نہ ہو 
زندگی عشرتِ احساس کا دھوکا ہی نہ ہو 
جیسے اک خواب ہوا عہدِ گزشتہ کا ثبات
دمِ آیندہ مِری آس کا دھوکا ہی نہ ہو
یہ نگیں بھی نہ ہو بس معجزۂ تارِ نظر 
یہ ہنر گوہر و الماس کا دھوکا ہی نہ ہو 

Friday, 29 April 2016

راستہ اس کا جو روکے گا وہ مر جائے گا

راستہ اس کا جو روکے گا وہ مر جائے گا
وقت دریا ہے بہر طور گزر جائے گا
ذہن میں اتنی بھی تشکیک نہ رکھی جائے
عشق پانی تو نہیں ہے کہ اتر جائے گا
دوستو! بھائیو! نیکی کے لیے کچھ کیجو
خیر آئے گی تو اس شہر سے شر جائے گا

سب کا پیرایہ اظہار بدل جاتا ہے

سب کا پیرایۂ اظہار بدل جاتا ہے
منہ میں لقمہ ہو تو پندار بدل جاتا ہے
گام دو گام پہ ہوتی ہے جب اپنی نصرت
تو ہمارا سپہ سالار بدل جاتا ہے
جب کبھی ہم کسی معیار پہ پورے اتریں
ایسا ہوتا ہے وہ معیار بدل جاتا ہے

Wednesday, 27 April 2016

ہوئے ہجرت پہ مائل پھر مکیں آہستہ آہستہ

ہوئے ہجرت پہ مائل پھر مکیں آہستہ آہستہ
بہت سی خواہشیں دل سے گئیں آہستہ آہستہ
ہوا اس سانحے میں غیر جانبدار نکلی، سو
دھوئیں کی ایک دو موجیں اٹھیں آہستہ آہستہ
مجھے ماہِ منور نے بہت الجھائے رکھا، اور
سمندر کھا گئے میری زمیں،۔۔ آہستہ آہستہ

قفس ہے جو بہ شکل سائباں رکھا ہوا ہے

قفس ہے جو بہ شکلِ سائباں رکھا ہوا ہے
ہمارے سر پہ یہ جو آسماں رکھا ہوا ہے
تِری آنکھوں میں کیوں جھلکا نہیں رنگِ تمنا
تِرے سینے میں دل کیا رائیگاں رکھا ہوا ہے 
تکبر سے کمر کوزہ ہوئی ہے آسماں کی
زمیں کو خاکساری نے جواں رکھا ہوا ہے

پوچھ مت نارسا دعاؤں کی

پوچھ مت نارسا دعاؤں کی
دیکھ تنویر کہکشاؤں کی
بے زمیں راستے ہوئے آباد
اڑ گئی نیند دیوتاؤں کی
آسماں ہے کہ چادرِ تخیّل
کہکشاں ہے کہ دھول پاؤں کی

Wednesday, 20 April 2016

کبھی رستہ نہیں ملتا کبھی محور نہیں ملتا

کبھی رستہ نہیں ملتا،۔ کبھی محور نہیں ملتا
زمیں پاؤں سے سرکی ہے، فلک سر پر نہیں ملتا
جو محروم بصیرت ہو، وہ محروم بصارت ہے
کبھی آنکھیں نہیں کھلتیں، کبھی منظر نہیں ملتا
تو ملبوسِ نظارہ ہے تو میں نظروں کا جوہر ہوں
تجھے آنکھوں کی محرومی، مجھے پیکر نہیں ملتا

کیا بات بتاؤں میں تمہیں خوش نظراں کی

مُسکا کے جدھر دیکھیں، نئے پھول کھِلا دیں
کیا بات بتاؤں میں تمہیں خوش نظراں کی
اٹکھیلیاں کرتی ہے تِری یاد بھی کیا کیا
دل تک چلی آئی ہے ٹہلتی ہوئی بانکی
اے عہدِ گزشتہ کو بلاتے ہوئے لوگو
قیمت نہیں معلوم تمہیں عمرِ رواں کی

Tuesday, 12 April 2016

اک بات عیاں کی ہے تو اک بات نہاں کی

اک بات عیاں کی ہے تو اک بات نہاں کی
ہو خیر مِرے دوست تِری طرزِ بیاں کی
میں اوجِ تخیّل پہ یونہی تو نہیں جاتا
تصویر بناتا ہوں وہاں سے میں یہاں کی
مت پوچھئے کس طرح ہُوا عشق میں کندن
اس جسم کے ایندھن میں جلا، سانس دھواں کی

لفظ سے ماورا سوال بھی ہیں

لفظ سے ماورأ سوال بھی ہیں
کینوس سے بڑے خیال بھی ہیں
ان یُگوں سے پرے، گماں سے ورأ
بے کراں روز و ماہ و سال بھی ہیں
مِری آنکھوں کو سرسری مت دیکھ
ان میں کچھ رنگ لازوال بھی ہیں