سائے کے حق میں کچھ نہیں میرے بیان میں
جو آپ چھپتا پھرتا ہے ہر سائبان میں
یہ چھوٹے چھوٹے شوق بھی اس کو روا نہیں
جس کو بڑا بنایا گیا خاندان میں
مجھ کو ہے آدمی سے توقع خلوص کی
سونا تلاش کرتا ہوں مٹی کی کان میں
سائے کے حق میں کچھ نہیں میرے بیان میں
جو آپ چھپتا پھرتا ہے ہر سائبان میں
یہ چھوٹے چھوٹے شوق بھی اس کو روا نہیں
جس کو بڑا بنایا گیا خاندان میں
مجھ کو ہے آدمی سے توقع خلوص کی
سونا تلاش کرتا ہوں مٹی کی کان میں
عکس ابھرا نہیں آئینہ دلداری کا
ہجر نے کھینچ لیا دائرہ زنگاری کا
ناز کرتا تھا طوالت پہ کہ وقت رخصت
بھید سائے پہ کھلا شام کی عیاری کا
جس قدر خرچ کئے سانس ہوئی ارزانی
نرخ گرتا گیا رسم و رہِ بازاری کا