قہقہے ہونٹ مگر زخم کِیے دیتے ہیں
چلو دِکھلاتے نہِیں چاک سِیے دیتے ہیں
کون سُقراط کی مانند پِیے گا پیالہ
آؤ یہ کارِ جہاں ہم ہی کِیے دیتے ہیں
گھر میں مُدت کے اندھیروں کو مِٹانے کے لیے
اِستعارے کو وہ آنکھوں کے دِیے دیتے ہیں
قہقہے ہونٹ مگر زخم کِیے دیتے ہیں
چلو دِکھلاتے نہِیں چاک سِیے دیتے ہیں
کون سُقراط کی مانند پِیے گا پیالہ
آؤ یہ کارِ جہاں ہم ہی کِیے دیتے ہیں
گھر میں مُدت کے اندھیروں کو مِٹانے کے لیے
اِستعارے کو وہ آنکھوں کے دِیے دیتے ہیں
جتنے دن کا ساتھ لکھا تھا، سات رہے
اب کچھ دن تو آنکھوں میں برسات رہے
اب نا شُکری کرنا اور معاملہ ہے
حاصل ہم کو عشق رہا، ثمرات رہے
اندر کی دیوی نے یہ چُمکار، کہا
نرم ہے دل تو کاہے لہجہ دھات رہے
مرنے دِیا مجھے، نہ ہی جینے دِیا مجھے
بانٹا تھا جس کا، درد اسی نے دیا مجھے
میں جس مقام پر تھا وہیں پر کھڑا رہا
لُوٹا مجھے کسی نے، کسی نے دیا مجھے
فصلِ خلوص بو کے تو دیکھو مِرے عزیز
میں نے دِیا ہے سب کو، سبھی نے دِیا مجھے
جنم لیا ہے جو انساں فروش نگری میں
سکُوت چھایا ہؤا ہے خموش نگری میں
جو منہ کی کھا کے پلٹتا ہے اور بستی سے
نکالتا ہے وہ سب اپنا جوش نگری میں
اگرچہ چہرے سے یہ سخت گیر لگتے ہیں
سبھی ہیں دوست صِفت برف پوش نگری میں
توڑ کر دل مِرا بے سبب، جا چُھپے وہ کہاں کیا پتہ
کل رفیقو! جہاں میں مِری، ہو نہ ہو داستاں کیا پتہ
کہہ رہا ہے کوئی جا رہا ہے کدھر لوٹ آ، لوٹ آ
ہو چلا ہوں بھلا کس لیے اس قدر بد گماں، کیا پتہ
جس قدر ہو سکا پیار کو اوڑھنا اور بِچھونا کِیا
پر ہمیشہ خسارے میں تھی کس لیے یہ دُکاں، کیا پتہ
نمی آنکھوں کی بھی محسوس کی تحرِیر میں شامل
کہ کاجل کی دِکھے ہے دھار سی تنوِیر میں شامل
مجھے پا بند کر لیتی کہاں زنجیر میں دم تھا
تمہاری زُلف کی اِک لَٹ رہی زنجیر میں شامل
عمارت میں جو سِطوت ہے ہمارے دم قدم سے ہے
ازل سے ہے غرِیبوں کا لہو تعمیر میں شامل
لا کے چھوڑا ہے مجھے چھوڑنے والے نے کہاں
چین کا سانس لِیا درد کے پالے نے کہاں
اپنی دھرتی سے ہؤا دور تو احساس ہُؤا
کھینچ کے لایا ہے روٹی کے، نِوالے نے کہاں
جانتا ہوں کہ تُو نادان سمجھتا ہے مجھے
اِک ذرا راز کِیا فاش یہ بالے نے کہاں؟
وہ مجھ سے جل کے یہ بولے کہ ہو ترقی میں
ہضم یہ بات نہ ہو تم رہو ترقی میں
انہیں زوال کا کھٹکا کبھی نہیں ہوتا
خدا کی یاد جگاتے ہیں جو ترقی میں
یقین ہے کہ عقِیدت عروج پائے گی
نگاہیں پائیں گی جب آپ کو ترقی میں
اسی لیے کوئی جادو اثر نہِیں کرتا
گمان دل میں مِرے دوست گھر نہِیں کرتا
جھکا ہی رہتا ہے گشتی پہ اپنے شام و سحر
پِسر کو بولتا ہوں کام کر، نہِیں کرتا
فقیر جان کے محبوب پیار بِھیک میں دے
میں اپنے آپ کو یوں دربدر نہِیں کرتا
چہرہ ہے مِرا دھول، کوئی غازہ نہِیں ہے
اس درد کا اس شخص کو اندازہ نہِیں ہے
اس بار حویلی میں انا کی ہوں مقید
کس طرز کا گنبد ہے کہ دروازہ نہِیں ہے
پکڑا تھا مِرے باپ کا کل اس نے گریباں
وہ شخص ابھی شہر میں لی ہاذا نہِیں ہے
سوچو امیرِ شہر نے لوگوں کو کیا دِیا
بھوک اور مفلسی ہی وفا کا صلہ دیا
کوٹھی امیرِ شہر کی ہے قمقموں سجی
گھر میں غرِیبِ شہر کے بجھتا ہؤا دِیا
ہم نے تمہیں چراغ دیا، روشنی بھی دی
تم نے ہمارے دل کا فقط غم بڑھا دیا
اس، اس کے لیے اب نہ کسی تب کے لیے ہے
ہے دل میں مِرے پیار جو وہ سب کے لیے ہے
یہ چہرہ تِرا دن کے اجالے کے لیے ہے
اور زلف گھنیری ہے، سو وہ شب کے لیے ہے
اک عمر اسی پیاس کی شدت میں گزاری
یہ آنکھ کا پیمانہ مِرے لب کے لیے ہے
ناز اس کے اٹھاتا ہوں رلاتا بھی مجھے ہے
زلفوں میں سلاتا بھی، جگاتا بھی مجھے ہے
آتا ہے بہت اس پہ مجھے غصہ بھی، لیکن
پیار اس پہ کبھی ٹوٹ کے آتا بھی مجھے ہے
در پے ہے مِری جان کے، جو پِیچھے پڑا ہے
وہ دشمنِ جاں دوستو! بھاتا بھی مجھے ہے
سفر نے تو مجھے شل کر دیا ہے
معمّا تھا مگر حل کر دیا ہے
وہ آیا نکہتوں کے جُھرمٹوں میں
بہاروں کو مکمل کر دیا ہے
مجھے محفوظ کرنا ذات کو تھا
تِری آنکھوں کا کاجل کر دیا ہے
تمہارا عزم ہمیں وحشتوں میں رکھنا ہے
یہ سوچتے ہیں تمہیں کِن صفوں میں رکھنا ہے
تمہاری نیند ہمارے ہی ساتھ جائے گی
خیال اپنا تمہیں رت جگوں میں رکھنا ہے
مزہ جو پایا تھا ہم نے ہری رُتوں میں کبھی
اسی مزاج کا پِیلی رُتوں میں رکھنا ہے
مرض ہے اس میں وہ کمتر، حقیر جانتا ہے
فقیر ہو گا، جو سب کو فقیر جانتا ہے
میں اس کی قید سے آزاد ہو چکا ہوں مگر
وہ بے وقوف، ابھی تک اسیر جانتا ہے
تمہارا کام اگر ہو کوئی تو حُکم کرو
تمہیں پتہ ہے مجھے اک وزیر جانتا ہے
جانتا کوئی نہِیں آج اصولوں کی زباں
کاش آ جائے ہمیں بولنا پھولوں کی زباں
موسمِ گُل ہے کِھلے آپ کی خوشبو کے گُلاب
بولنا آ کے ذرا پِھر سے وہ جُھولوں کی زباں
یہ رویہ بھی ہمیں شہر کے لوگوں سے ملا
پُھول کے منہ میں رکھی آج ببُولوں کی زباں
اجالے رکھ لو مگر تیرگی تو دو گے ناں
مجھے خبر ہے مجھے پھر بھی تم کہو گے ناں
کڑا جو وقت پڑا لوگ چھوڑ دیں گے مجھے
کہو کہ تم تو مِرے ساتھ ساتھ ہو گے ناں؟
بجا کہا کہ؛ میں کرتا رہا اداکاری
بجا یہ بات کہ مجھ کو عزِیز ہو گے ناں
بُرا تھا یا بھلا جیسا بھی تھا رکھا گیا تھا
تمہی کہہ دو، ہمارا نام کیا رکھا گیا تھا؟
تم اپنے آپ میں تھے برہمن، شُودر تھے ہم ہی
جبھی تو بِیچ میں یہ فاصلہ رکھا گیا تھا
ہمیں بچپن میں دوزخ اور جنت کی خبر تھی
دیانت تھی کہ دل میں خوف سا رکھا گیا تھا
مِٹھڑی (ہمارا گاؤں)
جہاں پر بھی بسیرا ہو ہمارا، یاد مِٹھڑی ہے
ثمر قند و بُخارا ہے، مُراد آباد مٹھڑی ہے
نواب اللہ کو پیارے ہوئے تو دور بدلا ہے
نہیں جو وہ رہے تو اب ستم ایجاد مٹھڑی ہے
گزارا ہے جہاں بچپن، لڑکپن کا زمانہ بھی
رکھا جس نے مِرے دل کو ہمیشہ شاد مٹھڑی ہے