Showing posts with label رشید حسرت. Show all posts
Showing posts with label رشید حسرت. Show all posts

Sunday, 6 August 2023

قہقہے ہونٹ مگر زخم کیے دیتے ہیں

 قہقہے ہونٹ مگر زخم کِیے دیتے ہیں

چلو دِکھلاتے نہِیں چاک سِیے دیتے ہیں

کون سُقراط کی مانند پِیے گا پیالہ

آؤ یہ کارِ جہاں ہم ہی کِیے دیتے ہیں

گھر میں مُدت کے اندھیروں کو مِٹانے کے لیے

اِستعارے کو وہ آنکھوں کے دِیے دیتے ہیں

Wednesday, 17 May 2023

جتنے دن کا ساتھ لکھا تھا سات رہے

 جتنے دن کا ساتھ لکھا تھا، سات رہے

اب کچھ دن تو آنکھوں میں برسات رہے

اب نا شُکری کرنا اور معاملہ ہے

حاصل ہم کو عشق رہا، ثمرات رہے

اندر کی دیوی نے یہ چُمکار، کہا

نرم ہے دل تو کاہے لہجہ دھات رہے

Tuesday, 9 May 2023

مرنے دیا مجھے نہ ہی جینے دیا مجھے

 مرنے دِیا مجھے، نہ ہی جینے دِیا مجھے

بانٹا تھا جس کا، درد اسی نے دیا مجھے

میں جس مقام پر تھا وہیں پر کھڑا رہا 

لُوٹا مجھے کسی نے، کسی نے دیا مجھے

فصلِ خلوص بو کے تو دیکھو مِرے عزیز

میں نے دِیا ہے سب کو، سبھی نے دِیا مجھے

Tuesday, 25 April 2023

جنم لیا ہے جو انساں فروش نگری میں

 جنم لیا ہے جو انساں فروش نگری میں

سکُوت چھایا ہؤا ہے خموش نگری میں

جو منہ کی کھا کے پلٹتا ہے اور بستی سے

نکالتا ہے وہ سب اپنا جوش نگری میں

اگرچہ چہرے سے یہ سخت گیر لگتے ہیں

سبھی ہیں دوست صِفت برف پوش نگری میں

Wednesday, 12 April 2023

توڑ کر دل مرا بے سبب جا چھپے وہ کہاں کیا پتہ

 توڑ کر دل مِرا بے سبب، جا چُھپے وہ کہاں کیا پتہ

کل رفیقو! جہاں میں مِری، ہو نہ ہو داستاں کیا پتہ

کہہ رہا ہے کوئی جا رہا ہے کدھر لوٹ آ، لوٹ آ

ہو چلا ہوں بھلا کس لیے اس قدر بد گماں، کیا پتہ

جس قدر ہو سکا پیار کو اوڑھنا اور بِچھونا کِیا

پر ہمیشہ خسارے میں تھی کس لیے یہ دُکاں، کیا پتہ

Sunday, 26 March 2023

نمی آنکھوں کی بھی محسوس کی تحریر میں شامل

 نمی آنکھوں کی بھی محسوس کی تحرِیر میں شامل

کہ کاجل کی دِکھے ہے دھار سی تنوِیر میں شامل

مجھے پا بند کر لیتی کہاں زنجیر میں دم تھا

تمہاری زُلف کی اِک لَٹ رہی زنجیر میں شامل

عمارت میں جو سِطوت ہے ہمارے دم قدم سے ہے

ازل سے ہے غرِیبوں کا لہو تعمیر میں شامل

Wednesday, 11 January 2023

لا کے چھوڑا ہے مجھے چھوڑنے والے نے کہاں

 لا کے چھوڑا ہے مجھے چھوڑنے والے نے کہاں

چین کا سانس لِیا درد کے پالے نے کہاں

اپنی دھرتی سے ہؤا دور تو احساس ہُؤا

کھینچ کے لایا ہے روٹی کے، نِوالے نے کہاں

جانتا ہوں کہ تُو نادان سمجھتا ہے مجھے

اِک ذرا راز کِیا فاش یہ بالے نے کہاں؟

Thursday, 5 January 2023

وہ مجھ سے جل کے یہ بولے کہ ہو ترقی میں

 وہ مجھ سے جل کے یہ بولے کہ ہو ترقی میں

ہضم یہ بات نہ ہو تم رہو ترقی میں

انہیں زوال کا کھٹکا کبھی نہیں ہوتا

خدا کی یاد جگاتے ہیں جو ترقی میں

یقین ہے کہ عقِیدت عروج پائے گی

نگاہیں پائیں گی جب آپ کو ترقی میں

Monday, 28 November 2022

اسی لیے کوئی جادو اثر نہِیں کرتا

 اسی لیے کوئی جادو اثر نہِیں کرتا

گمان دل میں مِرے دوست گھر نہِیں کرتا

جھکا ہی رہتا ہے گشتی پہ اپنے شام و سحر

پِسر کو بولتا ہوں کام کر، نہِیں کرتا

فقیر جان کے محبوب پیار بِھیک میں دے

میں اپنے آپ کو یوں دربدر نہِیں کرتا

Thursday, 17 November 2022

چہرہ ہے مِرا دھول کوئی غازہ نہِیں ہے

 چہرہ ہے مِرا دھول، کوئی غازہ نہِیں ہے

اس درد کا اس شخص کو اندازہ نہِیں ہے

اس بار حویلی میں انا کی ہوں مقید

کس طرز کا گنبد ہے کہ دروازہ نہِیں ہے

پکڑا تھا مِرے باپ کا کل اس نے گریباں

وہ شخص ابھی شہر میں لی ہاذا نہِیں ہے

Monday, 7 November 2022

سوچو امیر شہر نے لوگوں کو کیا دیا

 سوچو امیرِ شہر نے لوگوں کو کیا دِیا

بھوک اور مفلسی ہی وفا کا صلہ دیا

کوٹھی امیرِ شہر کی ہے قمقموں سجی

گھر میں غرِیبِ شہر کے بجھتا ہؤا دِیا

ہم نے تمہیں چراغ دیا، روشنی بھی دی

تم نے ہمارے دل کا فقط غم بڑھا دیا

Thursday, 3 November 2022

اس اس کے لیے اب نہ کسی تب کے لیے ہے

 اس، اس کے لیے اب نہ کسی تب کے لیے ہے

ہے دل میں مِرے پیار جو وہ سب کے لیے ہے

یہ چہرہ تِرا دن کے اجالے کے لیے ہے

اور زلف گھنیری ہے، سو وہ شب کے لیے ہے

اک عمر اسی پیاس کی شدت میں گزاری

یہ آنکھ کا پیمانہ مِرے لب کے لیے ہے

Friday, 28 October 2022

ناز اس کے اٹھاتا ہوں رلاتا بھی مجھے ہے

 ناز اس کے اٹھاتا ہوں رلاتا بھی مجھے ہے

زلفوں میں سلاتا بھی، جگاتا بھی مجھے ہے

آتا ہے بہت اس پہ مجھے غصہ بھی، لیکن

پیار اس پہ کبھی ٹوٹ کے آتا بھی مجھے ہے

در پے ہے مِری جان کے، جو پِیچھے پڑا ہے

وہ دشمنِ جاں دوستو! بھاتا بھی مجھے ہے

Friday, 21 October 2022

سفر نے تو مجھے شل کر دیا ہے

 سفر نے تو مجھے شل کر دیا ہے

معمّا تھا مگر حل کر دیا ہے

وہ آیا نکہتوں کے جُھرمٹوں میں

بہاروں کو مکمل کر دیا ہے 

مجھے محفوظ کرنا ذات کو تھا

تِری آنکھوں کا کاجل کر دیا ہے

Tuesday, 11 October 2022

تمہارا عزم ہمیں وحشتوں میں رکھنا ہے

 تمہارا عزم ہمیں وحشتوں میں رکھنا ہے

یہ سوچتے ہیں تمہیں کِن صفوں میں رکھنا ہے

تمہاری نیند ہمارے ہی ساتھ جائے گی

خیال اپنا تمہیں رت جگوں میں رکھنا ہے

مزہ جو پایا تھا ہم نے ہری رُتوں میں کبھی

اسی مزاج کا پِیلی رُتوں میں رکھنا ہے

Wednesday, 5 October 2022

مرض ہے اس میں وہ کمتر حقیر جانتا ہے

 مرض ہے اس میں وہ کمتر، حقیر جانتا ہے 

فقیر ہو گا، جو سب کو فقیر جانتا ہے

میں اس کی قید سے آزاد ہو چکا ہوں مگر

وہ بے وقوف، ابھی تک اسیر جانتا ہے

تمہارا کام اگر ہو کوئی تو حُکم کرو

تمہیں پتہ ہے مجھے اک وزیر جانتا ہے

Wednesday, 28 September 2022

جانتا کوئی نہِیں آج اصولوں کی زباں

 جانتا کوئی نہِیں آج اصولوں کی زباں

کاش آ جائے ہمیں بولنا پھولوں کی زباں

موسمِ گُل ہے کِھلے آپ کی خوشبو کے گُلاب

بولنا آ کے ذرا پِھر سے وہ جُھولوں کی زباں

یہ رویہ بھی ہمیں شہر کے لوگوں سے ملا

پُھول کے منہ میں رکھی آج ببُولوں کی زباں

Monday, 26 September 2022

اجالے رکھ لو مگر تیرگی تو دو گے ناں

 اجالے رکھ لو مگر تیرگی تو دو گے ناں

مجھے خبر ہے مجھے پھر بھی تم کہو گے ناں

کڑا جو وقت پڑا لوگ چھوڑ دیں گے مجھے

کہو کہ تم تو مِرے ساتھ ساتھ ہو گے ناں؟

بجا کہا کہ؛ میں کرتا رہا اداکاری

بجا یہ بات کہ مجھ کو عزِیز ہو گے ناں

Friday, 2 September 2022

برا تھا یا بھلا جیسا بھی تھا رکھا گیا تھا

 بُرا تھا یا بھلا جیسا بھی تھا رکھا گیا تھا

تمہی کہہ دو، ہمارا نام کیا رکھا گیا تھا؟

تم اپنے آپ میں تھے برہمن، شُودر تھے ہم ہی

جبھی تو بِیچ میں یہ فاصلہ رکھا گیا تھا

ہمیں بچپن میں دوزخ اور جنت کی  خبر تھی

دیانت تھی کہ دل میں خوف سا رکھا گیا تھا

Thursday, 18 August 2022

جہاں پر بھی بسیرا ہو ہمارا یاد مٹھڑی ہے

 مِٹھڑی (ہمارا گاؤں)


جہاں پر بھی بسیرا ہو ہمارا، یاد مِٹھڑی ہے

ثمر قند و بُخارا ہے، مُراد آباد مٹھڑی ہے

نواب اللہ کو پیارے ہوئے تو دور بدلا ہے

نہیں جو وہ رہے تو اب ستم ایجاد مٹھڑی ہے

گزارا ہے جہاں بچپن، لڑکپن کا زمانہ بھی

رکھا جس نے مِرے دل کو ہمیشہ شاد مٹھڑی ہے