Tuesday, 11 October 2022

تمہارا عزم ہمیں وحشتوں میں رکھنا ہے

 تمہارا عزم ہمیں وحشتوں میں رکھنا ہے

یہ سوچتے ہیں تمہیں کِن صفوں میں رکھنا ہے

تمہاری نیند ہمارے ہی ساتھ جائے گی

خیال اپنا تمہیں رت جگوں میں رکھنا ہے

مزہ جو پایا تھا ہم نے ہری رُتوں میں کبھی

اسی مزاج کا پِیلی رُتوں میں رکھنا ہے

رکھا ہے جیسے تمہیں صبح کی تمازت میں

ڈھلی جو شام تو پِھر ملگجوں میں رکھنا ہے

جو ماپنا ہے ہمیں قُربتوں کو قُربت سے

تو فاصلوں کو اُدھر فاصلوں میں رکھنا ہے

حرام نفع کی ہم کو پڑی ہے لت ایسی

سو چار، پانچ ہمیں درجنوں میں رکھنا ہے

تم اب کے آؤ تو جانے نہ دیں گے مڑ کے تمہیں

مہک سی تم کو چُرا کر گُلوں میں رکھنا ہے 

ہمیں یقیں ہے کہ پہلے یقیں دِلا کے ہمیں

پِھر اس کے بعد فقط واہموں میں رکھنا ہے

رشید! سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا تم

کمالِ ربط کوئی ضابطوں میں رکھنا ہے


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment