Tuesday, 11 October 2022

جنون دل اگر آمادۂ اظہار ہو جائے

 جنون دل اگر آمادۂ اظہار ہو جائے 

بہار آنے سے پہلے ہی چمن بیدار ہو جائے 

خوشی کیسی خوشی سے واسطہ کیا غم پرستوں کو 

مسلسل غم نہ ہو تو زندگی دشوار ہو جائے 

ٹھہر اے برق! یہ دو چار تنکے جمع تو کر لوں 

بس اتنی اور مہلت آشیاں تیار ہو جائے 

عطا کر ہاں عطا کر کائناتِ درد کے مالک 

اک ایسا درد جو نا قابلِ اظہار ہو جائے 

وہ آئیں یا نہ آئیں اب میں آنکھیں بند کرتا ہوں 

یوں ہی شاید مکمل انتظارِ یار ہو جائے 

یہ طوفاں یہ تلاطم صرف میری زندگی تک ہے 

اگر میں غرق ہو جاؤں، تو بیڑا پار ہو جائے 

ابھی قابو ہے دل پر اپنی بربادی پہ ہنستا ہوں 

پھر اس کے بعد شاید ضبطِ غم دشوار ہو جائے 

نشیمن پر نشیمن اس طرح تعمیر کرتا جا 

کہ گرتے گرتے بجلی آپ خود بیزار ہو جائے 

سعید اب کیا کروں گا پاؤں کے چھالوں سے تنگ آ کر

دعا کرتا ہوں سارا راستہ پُر خار ہو جائے


سعید شہیدی

No comments:

Post a Comment