Showing posts with label عطا عابدی. Show all posts
Showing posts with label عطا عابدی. Show all posts

Wednesday, 5 April 2023

سر پہ سورج ہو مگر سایہ نہ ہو ایسا نہ تھا

 سر پہ سورج ہو مگر سایہ نہ ہو ایسا نہ تھا 

پہلے بھی تنہا تھا لیکن اس قدر تنہا نہ تھا 

وہ تو یہ کہیے غم دوراں نے رکھ لی آبرو 

ورنہ دل کی بات تھی کچھ کھیل بچوں کا نہ تھا 

بچ کے طوفاں سے نکل آیا تو حیرانی ہے کیوں 

گو سفینہ ڈوبتا تھا حوصلہ ٹوٹا نہ تھا 

Monday, 6 December 2021

تماشا زندگی کا روز و شب ہے

 تماشا زندگی کا روز و شب ہے

ہماری آنکھوں کو آرام کب ہے

چمکتی ہے تمنا جگنوؤں سی

اندھیری رات میں رونق عجب ہے

ضرورت ڈھل گئی رشتے میں ورنہ

یہاں کوئی کسی کا اپنا کب ہے؟

Friday, 19 November 2021

جاگتے ہی نظر اخبار میں کھو جاتی ہے

 جاگتے ہی نظر اخبار میں کھو جاتی ہے

زندگی درد کے انبار میں کھو جاتی ہے

نا خدا عقل کے پتوار اٹھاتا ہے کہ جب

کشتئ دل مِری منجدھار میں کھو جاتی ہے

بے سبب سوچنے والے کبھی سوچا تو نے

آگہی کثرتِ افکار میں کھو جاتی ہے

Thursday, 11 November 2021

بات جب پانی پہ تصویر بنانے کی ہوئی

 بات جب پانی پہ تصویر بنانے کی ہوئی

شرط دنیا سے مِری وعدہ نبھانے کی ہوئی

ہوگئیں آنکھیں جو پتھر تو تعجب کیوں ہے

جب خطا ہم سے بھی کل خواب سجانے کی ہوئی

اپنی رودادِ سفر کس کو سنائیں کہ یہاں

آنے والے کو سزا لوٹ کے جانے کی ہوئی

یوں تماشے رتجگے کے کو بہ کو ہوتے رہے

 یوں تماشے رت جگے کے کو بہ کو ہوتے رہے

سر پہ سورج آن پہنچا، اور ہم سوتے رہے

شاعری پیغمبری کا ایک حصہ تھی، مگر

لوگ اس کو صرف شہرت کے لیے ڈھوتے رہے

موت سے آنکھیں ملانے کی سزا مل کر رہی

زندگی بھر زندگی کے واسطے روتے رہے

Wednesday, 10 November 2021

مشغلہ زیست کا یہ روز و شبانہ ٹھہرا

 مشغلہ زیست کا یہ روز و شبانہ ٹھہرا

زلف برہم کے لیے وقت ہی شانہ ٹھہرا

روز اخبار کی تصویر بدل جاتی ہے 

اپنی آنکھوں میں کہاں کوئی زمانہ ٹھہرا

زندگی وقت کی رفتار سے ڈر جاتی ہے 

زندہ رہنے کے لیے مرنا بہانہ ٹھہرا

Thursday, 11 March 2021

سانسوں کے تعاقب میں حیران ملی دنیا

 سانسوں کے تعاقب میں حیران ملی دنیا

تصویر بنے جب ہم، آئینہ ہوئی دنیا

ہم خون پسینہ جب اک کر کے ہوئے روشن

کیوں آگ بنی دنیا، اور خوب جلی دنیا

اپنا نظریہ کیا محرومِ نظر ہیں جب

اس سمت چلے ہم بھی جس سمت چلی دنیا