سر پہ سورج ہو مگر سایہ نہ ہو ایسا نہ تھا
پہلے بھی تنہا تھا لیکن اس قدر تنہا نہ تھا
وہ تو یہ کہیے غم دوراں نے رکھ لی آبرو
ورنہ دل کی بات تھی کچھ کھیل بچوں کا نہ تھا
بچ کے طوفاں سے نکل آیا تو حیرانی ہے کیوں
گو سفینہ ڈوبتا تھا حوصلہ ٹوٹا نہ تھا
سر پہ سورج ہو مگر سایہ نہ ہو ایسا نہ تھا
پہلے بھی تنہا تھا لیکن اس قدر تنہا نہ تھا
وہ تو یہ کہیے غم دوراں نے رکھ لی آبرو
ورنہ دل کی بات تھی کچھ کھیل بچوں کا نہ تھا
بچ کے طوفاں سے نکل آیا تو حیرانی ہے کیوں
گو سفینہ ڈوبتا تھا حوصلہ ٹوٹا نہ تھا
تماشا زندگی کا روز و شب ہے
ہماری آنکھوں کو آرام کب ہے
چمکتی ہے تمنا جگنوؤں سی
اندھیری رات میں رونق عجب ہے
ضرورت ڈھل گئی رشتے میں ورنہ
یہاں کوئی کسی کا اپنا کب ہے؟
جاگتے ہی نظر اخبار میں کھو جاتی ہے
زندگی درد کے انبار میں کھو جاتی ہے
نا خدا عقل کے پتوار اٹھاتا ہے کہ جب
کشتئ دل مِری منجدھار میں کھو جاتی ہے
بے سبب سوچنے والے کبھی سوچا تو نے
آگہی کثرتِ افکار میں کھو جاتی ہے
بات جب پانی پہ تصویر بنانے کی ہوئی
شرط دنیا سے مِری وعدہ نبھانے کی ہوئی
ہوگئیں آنکھیں جو پتھر تو تعجب کیوں ہے
جب خطا ہم سے بھی کل خواب سجانے کی ہوئی
اپنی رودادِ سفر کس کو سنائیں کہ یہاں
آنے والے کو سزا لوٹ کے جانے کی ہوئی
یوں تماشے رت جگے کے کو بہ کو ہوتے رہے
سر پہ سورج آن پہنچا، اور ہم سوتے رہے
شاعری پیغمبری کا ایک حصہ تھی، مگر
لوگ اس کو صرف شہرت کے لیے ڈھوتے رہے
موت سے آنکھیں ملانے کی سزا مل کر رہی
زندگی بھر زندگی کے واسطے روتے رہے
مشغلہ زیست کا یہ روز و شبانہ ٹھہرا
زلف برہم کے لیے وقت ہی شانہ ٹھہرا
روز اخبار کی تصویر بدل جاتی ہے
اپنی آنکھوں میں کہاں کوئی زمانہ ٹھہرا
زندگی وقت کی رفتار سے ڈر جاتی ہے
زندہ رہنے کے لیے مرنا بہانہ ٹھہرا
سانسوں کے تعاقب میں حیران ملی دنیا
تصویر بنے جب ہم، آئینہ ہوئی دنیا
ہم خون پسینہ جب اک کر کے ہوئے روشن
کیوں آگ بنی دنیا، اور خوب جلی دنیا
اپنا نظریہ کیا محرومِ نظر ہیں جب
اس سمت چلے ہم بھی جس سمت چلی دنیا