Friday, 19 November 2021

جاگتے ہی نظر اخبار میں کھو جاتی ہے

 جاگتے ہی نظر اخبار میں کھو جاتی ہے

زندگی درد کے انبار میں کھو جاتی ہے

نا خدا عقل کے پتوار اٹھاتا ہے کہ جب

کشتئ دل مِری منجدھار میں کھو جاتی ہے

بے سبب سوچنے والے کبھی سوچا تو نے

آگہی کثرتِ افکار میں کھو جاتی ہے

اڑتے رہتے ہیں خیالات کے جگنو پھر بھی

بات کیوں پردۂ اظہار میں کھو جاتی ہے

اس کے کاموں کا ہے رنگین خوشامد پہ مدار

اور محنت مِری ایثار میں کھو جاتی ہے

حُرمت پردہ ضروری ہے عطا جی ورنہ

چیز جیسی بھی ہو بازار میں کھو جاتی ہے


عطا عابدی

No comments:

Post a Comment